واقع ہیں ایک متعصب اور جاہل آدمی تواعتراض کے طورپر جلدی کے ساتھ منہ سے ایک بات نکال لیتا ہے گویا وہ اس کامنہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی بے اختیار ی کی حالت ہوتی ہے جیسا کہ زحیر کے بیمار کو پیچش کے ساتھ بے اختیار دست آجاتا ہے۔ غرض تعصّب نہایت سخت بلا ہے اور پھر جب یہی تعصب نادانی اور جہالت کے ساتھ مرکب ہو جاتا ہے تو ایک ایسی زہریلی تاثیراس میں پیدا ہو جاتی ہے کہ اکثر وہ ایسے انسان کو جو متعصّب ہو ہلاک بھی کردیتی ہے۔ ہندوؤں میں سے ایک شخص یعنی باوا نانک صاحب بے تعصّب انسان پیدا ہوئے ہیں چونکہ وہ شخص دل کا پاک تھا اِس لئے خدا نے اُس کو دکھا دیا کہ اسلام سچا ہے اُس کے شعروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام پر فدا شدہ ہے۔ میں نے ڈیرہ نانک میں خود جاکر باوا صاحب کے چولا صاحب کو دیکھا ہے۔ انہوں نے اس چولہ میں قرآن شریف کی آیتیں لکھی ہیں اور جابجا صاف اقرار کیا ہے کہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور ہر ایک موقعہ پر لکھا ہے کہ بجز اسلام کے کوئی مذہب قبول کرنے کے لائق نہیں۔ اور میں نے ملتان میں وہ مسجددیکھی ہے جہاں باوا صاحب نماز پڑھا کرتے تھے اور اُن کے ہاتھ سے یہ لفظ ملتان کی خانقاہ پر میں نے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ یَا اللّٰہُ ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ باوا صاحب پاک دل تھے ؔ اور انہوں نے اسلام کی سچائی کے بارے میں بار بار گواہی دی سو کروڑہا ہندوؤں میں سے ایک یہی شخص پیدا ہوا جس کو خدا نے آنکھ کا نور بخشا اور دل کو صاف کیا اور اپنی محبت عطا کی مگر افسوس کہ پنڈت دیانند نے اُن کی شان میں بہت کچھ ناملائم اور توہین کے الفاظ اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھے ہیں جن کا نقل کرنا بھی میرے نزدیک بے ادبی ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ وہ خاص ایشور کی ہی زبان ہو مگر افسوس کہ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ جس حالت میں بموجب اصول آریہ کے نوع انسان قدیم سے ہے تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ اُن کی زبانیں بھی قدیم ہیں تو پھر قدامت کی وجہ سے