کرنی پڑتی ہے یہی قاعدہ طب رُوحانی میں ہے یعنی خدا کی شریعت میں ایک مریض جب علاج کرانے کے لئے طبیب کے پاس حاضر ہوتاہے تو اگر وہ حاذق طبیب ہے تو مرض کے تمام درجوں پر ایک ہی دوا نہیں دیتا۔ بلکہ ابتدائی حالت میں کچھ تجویز کرتا ہے اور جب مرض ابتدا سے ترقی کرکے تزائد کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے یعنی زیادہ ہونا شروع کرتی ہے تو اُسی درجہ کے مناسب حال نسخہ کو بدل دیتا ہے اور جب مرض تزائد سے انتہا کے درجہ پر پہنچتی ہے یعنی اُس کا زور و شور کمال تک پہنچ جاتا ہے تب طبیب حاذق اسی شدت مرض کے مطابق نسخہ تجویز کرتا ہے اور پھر جب مرض کے انحطاط کا وقت آتا ہے یعنی مرض گھٹنی شروع ہوتی ہے تو طبیب بھی اپنے نسخہ کو نرم کرلیتا ہے اور جب کسی مرض میں بغیر اپریشن یعنی جراحی کے چارہ نہیں ہوتا اور اندیشہ موت ہوتا ہے تو طبیب کا یہ فرض ہوتا ہے کہ فوراً اپریشن پر کمر بستہ ہو اور اس بات کا لحاظ نہ رکھے کہ بیمار کو کچھ تکلیف ہوگی۔ بعض اوقات طبیب کو جان بچانے کے لئے مریض کا پیٹ چیرنا پڑتا ہے یا سریا جبڑہ کی کوئی ہڈی نکالنی پڑتی ہے توان تمام تجاویز میں طبیب کو ظالم نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ ان تدابیر میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ جان کو بچانا چاہتا ہے۔
ایسا ہی اگر تم سوچ کر دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ انسان کی زندگی ہر ایک پہلو سے تغیرؔ ات سے بھری ہوئی ہے اور جیسا کہ انسان جسمانی طور پر تختہ مشق تغیرات ہے ایسا ہی رُوحانی طور پر بھی اُس کو تغیرات سے چارہ نہیں۔ ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں کہ اکتوبر مہینہ کے شروع ہوتے ہی ہمیں اپنے لباس میں کچھ کچھ تغیرکرنا پڑتا ہے اور پھر دسمبر کے مہینہ میں ہم پورے طور پر اس ہلکے لباس کو چھوڑ دیتے ہیں جو پہلے رکھتے تھے۔ اور بجائے اُس کے پشم وغیرہ کے موٹے موٹے کپڑے پہننے شروع کرتے ہیں جو دفع سردی کے لئے کافی ہوں۔ اور پھر جب اپریل کا مہینہ آتا ہے تو پھر ہم باریک کپڑے پہننے شروع کرتے ہیں۔ اور جون جولائی میں پنکھے اور ٹھنڈے پانیوں کی شدید حاجت ہوتی ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ یہی تغیرات انسان کی رُوحانی زندگی میں بھی