وہ سزا دینے میں دھیما ہے۔ پس اگر کسی ظلم اور خیانت کے وقت کوئی شخص اپنے کیفر کردار کو نہ پہنچے تو اُس کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ خدا کو اس کی اس مجرمانہ حرکت کی خبر نہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ بباعث خدا کے حکم کے یہ تاخیر واقع ہوئی ہے اور آخر شریر آدمی کو وہ سزا دیتاہے جس کے وہ لائق ہوتا ہے ؂ ہاں مشومغرور برحلم خدا دیر گیر دسخت گیرد مرتر اب ان تمام آیات سے صاف ظاہر ہے کہ کیسے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدین کے حق کو تاکید کے ساتھ ظاہر فرمایا ہے اورایسا ہی اولاد کے حقوق بلکہ تمام اقارب کے حقوق ذکر فرمائے ہیں اور مساکین اور یتیموں کو بھی فراموش نہیں کیا بلکہ ان حیوانات کا حق بھی انسانی مال میں ٹھہرایا ہے جو کسی انسان کے قبضہ میں ہوں۔ اس کے مقابل پر وید نے اہل حقوق کی بہت حق تلفی کی ہے یہاں تک کہ ایک ناجائز ولادت کا بچہ جو بذریعہ نیوگ پیدا کیاجاتا ہے وہ بھی وید کے رُو سے کسی شخص کا ایسا ہی وارث ٹھہرتا ہے جیسا کہ اُس کا صلبی بچہ۔ یہ کس قدر بے انصافی ہے اور پھر کسی کی موت کے بعد اس کے بعض وارثوں کی وید کے حکم سے حق تلفی کی جاتی ہے اور اُن کو صاف جواب دیا جاتا ہے مگر قرآن شریف کی رُو سے حصہ کشی کے وقت ایک ہی مجلس میں سب کے حقوق دئیے جاتے ہیں کوئی محروم نہیں رکھا جاتا۔ پھر ؔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ اس میں ترمیم تنسیخ نہ ہو اور نہ ہونے کی ضرورت ہو۔ اب ہم اس کے جواب میں کیا کہیں اور کیا لکھیں یہ شخص ناحق وید کی پردہ دری کراتاجاتاہے۔ ابھی تک اس کو یہ بھی خبر نہیں کہ انسانی فطرت معرض تبدل اور تغیر میں پڑی ہوئی ہے پس خدا کی طرف سے وہی کتاب ٹھہر سکتی ہے جو ان تغیرات کا لحاظ رکھے۔ جو شخص طبیب کہلاکر ایک شیر خوار بچہ کو اسی قدر اور اُسی درجہ کی دوا دیتا ہے جو ایک جوان کو دینے کے لائق ہے وہ ایک نادان آدمی ہے طبیب نہیں ہے اور جیسا کہ ایک طبیب کو موسموں کے لحاظ سے ایک دوا کی کمی بیشی کرنی پڑتی ہے یا ایک دو ا ترک کرکے دوسری دوا اختیار