والیؔ کا پتہ لگ جائے یہ کیاحماقت ہے کہ ان حدبندیوں کی دلیل بیان کرنے کے وقت ایک جگہ کچھ بیان ہے اور دُوسری جگہ اس کے مخالف بیان ہے اس قسم کا تناقض خدا کے کلام میں نہیں ہوسکتا اور جو کلام اس تناقض کو پیش کرے اُس کی رد اور کھنڈن کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی وحدت نظامی کے برخلاف ہے۔ بھلا ہمیں بتاؤ کہ کیا وید میںیہ وحدت نظامی کی تعلیم پائی جاتی ہے یعنی یہ کہ وہ تمام تفاوت قوتوں اور طاقتوں اور خاصیتوں کاجو ستاروں اور دُوسری نباتات اورروحوں کی قوتوں میں پایا جاتاہے از رُوئے تعلیم وید وہ محض اس لئے ہے کہ تا وہ مختلف طور کی حد بندی کہ جو ان تمام چیزوں کی قوتوں اور طاقتوں اور اجسام کی شکلوں اور رنگوں اور مقداروں میں پائی جاتی ہے ایک حدبست کرنے والے پرپختہ اور کامل دلیل ہو۔ یاد رہے کہ انسان کو صرف خدا کی شناخت کے لئے پیدا کیا گیا ہے پس اگر یہ نظام عالم کا اس طرح پر واقع ہو کہ خدا کے وجود پر دلالت نہ کرے تو تمام مصنوعات کا ایک فضول وجود ہوگا جس پر نظر ڈالنے سے ہم اپنے خدا کو شناخت نہیں کرسکتے۔ پس فقط اسی حالت میں خدا تعالیٰ کی شناخت کے لئے یہ نظام عالم مفید ہوسکتا ہے جب کہ اس کی وحدت نظامی پر نظر کرکے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل قائم ہوسکے اوروہ صورت صرف یہی صورت ہے کہ اجسام اور حیوانات میں جو جو تفاوت مقدار اور طاقت اور قوت میں پایا جاتا ہے اعمال کانتیجہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ تمام امور خدا کی ذات پر استدلال کرنے کے لئے اس کے قدرتی کام سمجھے جائیں اور یہ تمام حد بندی اس کی محض اس ارادہ سے اور اس غرض سے سمجھی جائے کہ تا اس قادر کے وجود پر جو حد باندھنے والا ہے ایک دلیل ہو اور تا اس کی مخلوقات کو محض اُس کی صنائع قرار دے کر اس پہلو سے بھی اس کے وجود پر دلیل قائم ہوسکے کہ اُس نے نہ تناسخ کی مجبوری سے بلکہ خود عمداً ارادہ کیا ہے کہ انسان کی نسل زمین پر پھیلے اور جو کچھ انسانی وجود کے لئے آرام اور راحت اور دوا اور غذا کے لئے ضرورتیں ہیں سب اس کے لئے مہیا ہوں اگر ایسا سمجھا جائے تو بلاشبہ یہ تمام چیزیں اس کے وجود پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ کسی نے کہا ہے ؂ برگ درختان سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفتر یست معرفت کردگار