گئے ہیں اوروہ راہیں اختیار کرتے ہیں جو تیری مرضی کے موافق نہیں۔ آمین۔
اب دیکھو کہ قرآن شریف کی یہ سورۃ جس کا نام سورۃ فاتحہ ہے کیسی توحید سے پُر ہے جو کسی جگہ انسان کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں کہ میں خود بخود ہوں اورخدا کا پیدا کردہ نہیں اور نہ یہ دعویٰ ہے کہ میرے اعمال اپنی قوت اور طاقت سے ہیں اور وید کی طرح اُس میں یہ دُعا نہیں کہ ’’اے پرمیشر ہمیں بہت سی گوئیں دے اور بہت سے گھوڑے دے اور بہت سا لوٹ کا مال دے‘‘ بلکہ یہ دعا ہے کہ ہمیں وہ راہ دکھاجس راہ سے انسان تجھے پالیتا ہے اور تیرا رُوحانی انعام واکرام اسے نصیب ہوتا ہے اور تیرے غضب سے بچتا ہے اور گمراہی کی راہوں سے محفوظ رہتا ہے۔
اسیؔ طرح قرآن شریف میں یہ تعلیم نہیں ہے کہ جب ایک انسان مر جاتا ہے تو اُس کی رُوح دو ٹکڑے ہوکر شبنم کی طرح رات کے وقت کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اورہم پہلے اس سے بہت تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے بلکہ رُوح اور اُس کی تمام طاقتیں خدا کی پیدائش ہے اور کوئی رُوح واپس نہیں آتی۔ اس سے ظاہرہے کہ وید نے روحوں کی پیدائش اور فنا کے بارہ میں دونوں پہلو سے سخت غلطی کی ہے چاہئے کہ اس بارہ میں ہمارے گذشتہ بیان کو غور سے پڑھیں۔
پھرمضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ الہامی کتاب کی ایک نشانی یہ ہے کہ اُس میں راجا پرجا اور والدین اور اولاد کے سب حقوق انصاف سے درج ہوں مگر مجھے تعجب ہے کہ یہ شخص اس قدر جلدی دیا نند کی اس تعلیم کو کیوں بھول گیا جو ویدوں کی رُو سے ستیارتھ پرکاش میں درج ہے جس میں لکھا ہے کہ اُسی راجا کو ماننا چاہئے جو ویدوں کی تعلیم کے موافق چلتا ہو اس تعلیم میں اس نے صاف اشارہ کیا ہے کہ جو بادشاہ آریہ مذہب کا پابند نہ ہوگو وہ کیسا ہی عادل ہو کیسا ہی رحم کرنے والا ہو کیسا ہی شرائط رعیت پروری پورا کرنے والا ہو اُس کو ہرگز قبول نہیں کرناچاہئے۔ اور یہی تعلیم تھی جس نے انہیں ایام میں بڑے عقلمند اور سمجھ دار اور تعلیم یافتہ