نہیں دے سکتا*۔ اس کے مقابل پر وہ عقیدہ دیکھو کہ قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے جیسا کہ وہ فرماتاہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ اِيَّاكَ۔نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَۙ
صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ (ترجمہ) تمام تعریفیں اور تمام مدح اور تمام استت اور مہماخدا کے لئے مسلّم اور مخصوص ہے جو تمام چیزوں کا پیدا کرنے والااور پرورش کرنے والا ہے۔ کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جو اُسؔ کی پیدا کردہ نہیں اور اُس کی پرورش کردہ نہیں۔ وہ رحمن ہے یعنی وہ بغیر عوض اعمال کے اپنے تمام بندوں کو خواہ کا فر ہیں خواہ مومن اپنی نعمتیں دیتا ہے اور اُن کی آسائش اور آرام کے لئے بے شمار نعمتیں اُن کو عطا کر رکھی ہیں اور وہ رحیم ہے یعنی پہلے تو وہ اپنی رحمانیت سے جس میں انسان کی کوشش کا دخل نہیں ایسے قویٰ اور طاقتیں اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے جن سے نیک اعمال بجا لاسکیں اور تکمیل اعمال کے لئے ہر ایک قسم کے اسباب مہیا کردیتا ہے اور پھر جب اُس کی رحمانیت سے انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ اعمال نیک بجا لاسکے تو ان اعمال کی جزا کے لئے خدا تعالیٰ کا نام رحیم ہے۔ اور جب انسان خدا تعالیٰ کی رحیمیت سے فیضیاب ہو کر اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس کی طرف سے ابدی انعام و اکرام پاوے تو اس ابدی انعام و اکرام کے دینے کے لئے خدا تعالیٰ کا نام مالک یوم الدین ہے پھر بعد اس کے فرمایا کہ اے وہ خدا جو ان صفات کا تو جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور پرستش وغیرہ نیک امور میں تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راہ دکھا۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام اکرام ہے۔ اور اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو تیرے غضب کے نیچے ہیں (یعنی ایسی شوخی اور شرارت کے کام کرتے ہیں جو اسی دنیا میں مورد غضب ہو جاتے ہیں) اور ہمیں اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو تیری راہ کو بھول
* اگر پرمیشر خود بخود کچھ دے سکتا تو پھر آریوں کی مکتی محدود کیوں ٹھہرتی ؟ پرمیشر میں یہ صفت ہی نہیں تھی کہ
اپنی طرف سے بطور فیاضی کچھ عطا کر سکتاتبھی تو مکتی بھی محدود رکھنی پڑی کیسے بدقسمت وہ لوگ ہیں جن کا پرمیشر ایسا کمزور اور صفت جودو سخا سے محروم ہے ۔ منہ