آریوں کو باغیانہ حرکت کامرتکب کیا۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ بعض وحشی مسلمان جو تعلیم قرآنی سے بالکل بے خبر ہیں باوجود رعیت کہلانے کے باغیانہ حرکت کر بیٹھتے ہیں مگر ہم ایک تعلیم یافتہ قوم کو جاہلوں کے ساتھ برابر نہیں کرسکتے۔ جاہلوں کی نسبت یہ مقولہ امیر عبد الرحمن خان کا بہت صحیح ہے کہ افغان برنصف قرآن عمل میکنند۔ قرآن شریف میں صاف اور صریح طور پر فرمایا گیا ہے کہ عادل بادشاہوں کی فرمانبرداری کرو اور بغاوت سے پرہیز کرو۔ اور جس بادشاہ یاجس کسی سے احسان دیکھو اس کا شکر کرو اور سب سے بھلائی کرو۔ مگر وید کی ہدایت اس کے برخلاف ہے اگر چاہو تو ستیارتھ پرکاش میں دیکھ لو۔ اسؔ نشانی کادوسرا فقرہ مضمون پڑھنے والے نے یہ لکھا ہے کہ الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ والدین اور اولاد کے سب حقوق انصاف سے اُس میں درج ہوں۔ سبحان اللہ ان لوگوں کی حالت تعصب کی وجہ سے کہاں تک پہنچ گئی ہے کہ محض اس غرض سے الہامی کتاب کی نشانیاں اپنی طرف سے تراشتے ہیں کہ تا قرآن شریف پر کوئی زد پیدا ہو جائے مگرخدا کی کلام پر کیونکر زد پیدا ہو اس لئے اُن کی وہ زد اُلٹ کروید ہی پر پڑتی ہے۔ قرآن شریف نے جس قدر والدین اور اولاد اور دیگر اقارب اور مساکین کے حقوق بیان کئے ہیں۔ میں نہیں خیال کرتا کہ وہ حقوق کسی اور کتاب میں لکھے گئے ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ 3333 ۱؂ الجزو نمبر۵ سورۃ النساء۔(ترجمہ) تم خدا کی پرستش کرو۔ اور اُس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ۔ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور اُن سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرہ میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دُور کے تمام رشتہ دار آگئے) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسا ن کرو۔ اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسایہ ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے