کی قوت بھی خودبخود ہوگی۔ اس صورت میں اُن کو ادراک مجہولات کے لئے پرمیشر کی کچھ بھی حاجت نہ رہی اور اس سے ماننا پڑے گا جیسا کہ رُوحیں قدیم سے خودبخود ہیں ایسا ہی علوم ضرور یہ کے تمام دروازے بھی قدیم سے اُن پر کھلے پڑے ہیں۔ پس اس صورت میں پرمیشر کی کچھ بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر یہ کہو کہ رُوحیں تو خودبخود ہیں مگر اُن کے صفات خودبخود نہیں تو یہ خیال خود غلط ہے کیونکہ کسی چیز کا تحقق وجود بغیر تحقق صفات کے ممکن نہیں غرض اس عقیدہ سے پرمیشر سرچشمہ فیوض نہ رہا۔ اور اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگیا اور نیز اُس کے وجود پر کوئی دلیل نہیں رہی جس سے سمجھا جائے کہ وہ موجود بھی ہے اور نیز اس عقیدہ سے پرمیشر تمام تعریفوں کا مستحق نہ رہا کیونکہ جب روحیں مع اپنی طاقتوں کے اور ایسا ہی ذرات اجسام مع اپنی طاقتوں کے قدیم سے خودبخود ہیں اور پرمیشر کا اُن میں دخل نہیں تو پھر پرمیشر تمام تعریفوں کا کیونکر مستحق ہوسکتا ہے؟ اور جن اپنی قدیم قوتوں کے ذریعہ سے کوئی شخص اعمال بجا لاتا ہے اُن اعمال کی بجا آوری میں بھی پرمیشر کا کچھ دخل قرارنہیں پاسکتا کیونکہ پرمیشر کے فیض کا اُن میں ایک ذرہ دخل نہیں اور یہ خود آریوں کے نزدیک مسلّم امر ہے کہ پرمیشر اپنی طرف سے عطیہ کے طور پر کچھ نہیں دے سکتا بلکہ سب کچھ جو انسان کو ملتا ہے وہ محض اعمال کا نتیجہ ہے پس کسی آریہ کو یہ توفیق نہیں مل سکتی کہ وہ الحمد للّٰہکہہ سکے یعنی یہ کہ تمام محامد اور تمام تعریفیں خدا سے خاص ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک جیسا کہ پرمیشر میں خوبیاں ہیں ایسا ہی روحوں اور ذرّات اجسام میں بھی خوبیاں ہیں کیونکہ وہ پرمیشر کی طرح قدیم سے خود بخود ہیں اور جن طاقتوں کو وہ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ بھی پرمیشر کی طاقتوں اور صفات کی طرح خود بخود ہیں اور انسان محض اپنی ذاتی طاقت سے اچھے اعمال بجا لاتا ہے نہ پرمیشر کی کسی مدد سے کیونکہ اوّل تو پرمیشر کو مدد دینے کے لئے قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ پرمیشر کی مدد کی ضرورت ہی نہیں خود بخود سب کچھ حاصل ہے۔ ماسوا اس کے اگر وہ انسانوں کو نیک اعمال کے بجا لانے پر کچھ مدد دے تو اس سے آریہ سماج کا اصول ٹوٹتا ہے اوروہ یہ کہ پرمیشر بغیر عوض اعمال کے کچھ