اپنے مطلب کے موافق بناکر پیش کردینا یہ تو اُن لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور گُنڈے کہلاتے ہیں۔ خدا تو قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصْرِهِمْ لَـقَدِيْرُ ۱؂ یعنی جن مسلمانوں پر ناحق قتل کرنے کے لئے چڑھائی کی جاتی ہے خدا نے دیکھا کہ وہ مظلوم ہیں اس لئے خدا بھی اُن کو مقابلہ کرنے کے لئے اجازت دیتا ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک نشانی الہامی کتاب کی یہ بیان کی کہ پیدائش اور فنا کے ؔ بارے میں اس میں صحیح صحیح حالات درج ہوں۔ واضح ہو کہ اس نشانی کی حقیقت بیان کرنے کے بارے میں ہم چنداں ضرورت نہیں دیکھتے۔ کیونکہ پہلے بھی وضاحت کے ساتھ ہم لکھ چکے ہیں کہ ان دونوں نشانیوں میں وید نے بڑی بھاری غلطی کھائی ہے۔ کیونکہ بموجب قول آریہ سماج کے وید کی یہ تعلیم ہے کہ ارواح اورذرات اجسام انادی اور غیر مخلوق اور قدیم سے پرمیشر کی طرح خود بخود ہیں اور اُن کی تمام طاقتیں اور قوتیں بھی خود بخود ہیں۔ اور انسان کے مرنے کے وقت میں اُس کی رُوح آسمان کی فضا میں چلی جاتی ہے اور پھر شبنم کی طرح رات کے وقت کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور وہ گھاس کوئی کھا لیتا ہے اور اس طرح پر نطفہ کے اندر ہوکر وہ رُوح کسی عورت کے پیٹ میں چلی جاتی ہے۔ یہ ہے وید کی فلاسفی جو پیدائش اور فنا کے متعلق ہے اور ہم اسی رسالہ میں ثابت کرچکے ہیں کہ یہ ایسا بدیہی البطلان عقیدہ ہے کہ ایک بچہ بھی اُس پر ہنسے گا۔ اگر رُوحیں خود بخود ہیں اور اُن کی طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر پرمیشر پرمیشر نہیں رہ سکتا اور نہ پرستش کرانے کے لئے اس کاکوئی حق ٹھہرتا ہے اور اس کا رُوحوں پر حکومت کرنا صرف قبضہ جابرانہ ہوگا اور ہم کوئی دوسرانام اس قبضہ کا نہیں رکھ سکتے۔ ایسا ہی اس عقیدہ سے اس کی توحید تمام درہم برہم ہو جاتی ہے اور قدامت میں ذرّہ ذرّہ اُس کے وجود کے ساتھ برابر ہو جاتا ہے۔ اور نیز بڑی خرابی یہ ہے کہ اس صورت میں وہ منبع فیوض نہیں ٹھہرسکتا کیونکہ جب کہ رُوحیں خودبخود ہیں اور اُن کی طاقتیں خودبخود ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ اُن کے ادراک مجہولات