اے اندر اور اگنی بجر گھمانے والو شہروں کے غارت کرنے والو ہمیں دولت عطا کرو۔ لڑائیوں میں ہماری مدد کرو یعنی بہت سا لوٹ کا مال ہمیں دو۔ اے اندر جو سب دیوتاؤں میں اول درجہ کا دیوتا ہے ہم تجھے بلاتے ہیں تو نے لڑائیوں میں بہت سا لوٹ کا مال حاصل کیا ہے۔ اے اجیت اندر ایسی لڑائیوں میں ہماری حفاظت کر جہاں سے بہت لوٹ ہمارے ہاتھ آوے۔ ہم اندر کو جو ہمارے دشمنوں کے مقابل پر بجر گھماتا ہے اور جو ہمارا مدد گار ہے بے شمار دولت حاصل کرنے کے لئے بلاتے ہیں۔ (وید کی تعلیم کی رُو سے لوٹ کا مال اکثر اندر ہی دیا ؔ کرتا ہے) اے اگنی ہم نے تجھے کبھی کا ہوم کرکے بلایا ہے ہمارے دشمنوں کو جلا دے۔ اب کوئی آریہ صاحب بتلاویں کہ یہ شُرتیاں وید میں ہیں یا قرآن شریف میں۔ قرآن شریف میں تو کہیں نہیں لکھا کہ اپنے دشمنوں کو آگ سے جلادو اور اُن کا مال لوٹ لو۔ یہ ایک سخت بدذاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام پر ناحق تہمت لگائی جاتی ہے۔ قرآن شریف میں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور اُن کا مال لوٹا اور اُن کو وطن سے نکالا تم بھی بعوض اس نقصان کے اُن کا مال لوٹ لو۔ اور جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے ہمیشہ لڑائیوں کی وضع اسی طرح چلی آئی ہے کہ فتح کرنے والے مغلوب فریق کامال لوٹ لیتے ہیں بلکہ اُن کے ملک پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں۔ آج کل بھی فتح پانے والے بادشاہوں میں یہی رسم جاری ہے مگر قرآن شریف نے ظلم اور زیادتی کی تعلیم نہیں دی اور صرف مظلوموں کی نسبت لڑائی کرنا جائز رکھا ہے اور نیز یہ کہ جس طرح دشمن نے اُن کامال لوٹ لیا ہے وہ بھی لوٹ لیں زیادتی نہ کریں۔ پس کس قدر بے حیائی بے شرمی بے ایمانی ہے کہ ناحق قرآن شریف پر یہ تہمت تھا پ دی جاتی ہے کہ گو یا اُس نے آتے ہی بغیر اس کے کہ فریق ثانی سے مجرمانہ حرکتیں صادر ہوں لوٹ اور قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ ہمیں ایسی کوئی آیت سارے قرآن شریف میں نہیں ملتی اگر آریوں نے کوئی ایسی آیت دیکھی ہے جس سے یہ پایا جاتا ہو کہ بغیر فریق ثانی کے ظلم اورمجرمانہ حرکات کے اُن کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم ہو تو ان پر کھانا حرام ہے جب تک وہ آیت پیش نہ کریں۔ یوں ہی کسی آیت کا سرپیر کاٹ کر اور