اُن ایمانداروں کو نجات دے دی جو متقی اور پرہیزگار تھے۔ سو خدا کا مکر یہ تھا کہ جب شریر آدمی شرارت میں بڑھتے گئے تو ایک مدت تک خدا نے اپنے ارادہ عذاب کو مخفی رکھا۔ اور جب اُن کی شرارت نہایت درجہ تک پہنچ گئی بلکہ انہوں نے ایک بڑا مکر کرکے خدا کے برگزیدوں کو قتل کرنا چاہا۔ تب وہ پوشیدہ عذاب خدا نے اُن پر ڈال دیا جس کی اُن کو کچھ بھی خبر نہ تھی اور اُن کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس طرح ہم نیست و نابود کئے جائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کے برگزیدہ بندوں کو ستانا اچھا نہیں آخر خدا پکڑؔ تا ہے کچھ مدت تک تو خدا اپنے ارادہ کو مخفی رکھتا ہے اوروہی اُس کا ایک مکر ہے مگر جب شریر آدمی اپنی شرارت کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے تب خدا اپنے ارادہ کو ظاہرکردیتا ہے پس نہایت بدقسمت وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ بندوں کے مقابل پر محض شرارت کے جوش سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اُن کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں آخر خدا اُن کو ہی ہلاک کرتا ہے۔ اِس کے بارہ میں رومی صاحب کا یہ شعر نہایت عمدہ ہے۔
تا دلِ مردِ خدا نامد بدرد ہیچ قومے را خُدا رُسوا نہ کرد
پھر مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ اُس میں کسی کا مال لوٹنے کے لئے حکم نہ دیا گیا ہو ہم اس سے بھی یہی بات نکالتے ہیں کہ یا تو یہ شخص وید سے ناواقف ہے اور یا وید کے رشیوں کا پکّا دشمن ہے۔ کیونکہ بار بار وہی باتیں بیان کرتا ہے جو وید کی تعلیم کے مخالف ہیں۔ اس جگہ ہم بطور نمونہ ناظرین کے لئے رگوید کی چند شُرتیاں لوٹ کے بارے میں لکھ دیتے ہیں اوروہ یہ ہیں:۔ اگنی کے آگے ایک دعا کرکے آخری فقرہ شُرتی کا یہ ہے۔ ایسا ہو کہ ہم لڑائیوں میں اپنے دشمنوں سے لوٹ حاصل کریں اے اِندر گو ہم مستحق نہ ہوں پر توہمیں ہزارہا گوئیں اور گھوڑے دے کر مالا مال کر۔ اے خوبصورت اور طاقتور اِندر خوراک کے مالک تیری شفقت ہمیشہ قائم رہتی ہے ہزاروں عمدہ گھوڑے اور گوئیں ہمیں دے ہرایک کو جو ہمیں گالی دیتا ہے غارت کر یعنی اُن کا مال گوئیں وغیرہ ہمیں دے دے۔