قال اھل العلم بالتأْویل المکرمن اللّٰہ تعالٰی جزاء سمی باسم مکر المجازی۔ ترجمہ۔ مکر اس حیلہ کو کہتے ہیں جو پوشیدہ رکھا جائے۔ جنگوں میں اس قسم کے حیلے حلال ہیں۔ اور ہر ایک حلال امر کو حیلہ کرکے ٹالنا یہ حرام ہے اور قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں نے اپنی دانست میں ایک بڑا مکر کیا اور ہم نے بھی مکر کیا اور وہ ہمارے مکر سے بے خبر تھے اور اہل علم کہتے ہیں کہ خدا کا مکر یہ ہے کہ مکّاؔ ر کو مکر کی سزا دینا۔ اور قرآن شریف میں پوری آیت یہ ہے۔ وَكَانَ فِىْ الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِىْ الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ۔قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۔وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ اَجْمَعِيْنَ۔فَتِلْكَ بُيُوْتُهُمْ خَاوِيَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْاؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاَيَةً لِّـقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔ وَاَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۔؂ (الجزو نمبر۱۹ سورۃ النمل رکوع ۱۸و۱۹) ترجمہ۔ اور شہر میں نو۹ شخص ایسے تھے جن کا پیشہ ہی فساد تھا اور اصلاح کے روادار نہ تھے انہوں نے باہم قسمیں کھائیں کہ رات کو پوشیدہ طور پر شبخون مارکر اس شخص کو اور اس کے گھر والوں کو قتل کردو اور پھر ہم اس کے وارث کو جو خون کا دعویدار ہوگا یہ کہیں گے کہ ہم توان لوگوں کے قتل کرنے کے وقت اس موقع پر حاضر نہ تھے اور ہم سچ سچ کہتے ہیں یعنی یہ بہانہ بنائیں گے کہ ہم تو قتل کرنے کے وقت فلاں فلاں جگہ گئے ہوئے تھے جیسا کہ اب بھی مجرم لوگ ایسے ہی بہانے بنایا کرتے ہیں تا مقدمہ نہ چلے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو دیکھ کہ اُن کے مکر کا انجام کیا ہوا ہم نے اُن کو اور اُن کی تمام قوم کو ہلا ک کردیا۔ اور یہ گھر جوویران پڑے ہوئے ہیں یہ اُنہیں کے گھر ہیں ہم نے اس لئے ان کو یہ سزادی کہ یہ ہمارے برگزیدہ بندوں پر ظلم کرتے تھے اور باز نہیں آتے تھے۔ پس ہمارا یہ عذاب ان لوگوں کے لئے ایک نشان ہے جو جانتے ہیں۔ اور ہم نے اُن ظالم لوگوں کے ہاتھ سے