منظور نہیں ہے جیسا کہ ماں اپنے بچہ کو اس مکر سے دوا پلا دیتی ہے کہ وہ ایک شربت شیریں ہے اور میں نے بھی پیا ہے بڑا میٹھا ہے اور اس مکر سے بچہ کے دل میں ایک خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دوا کو پی لیتا ہے اور جیسا کہ پولس کے بعض لوگوں کو یہ خدمت سپرد ہے کہ وہ پولس کی وردی نہیں رکھتے اور عام لوگوں کی طرح سفید پوش رہتے ہیں اور پردؔ ہ میں بدمعاشوں کو تاڑتے رہتے ہیں۔ پس یہ بھی ایک قسم کا مکر ہے مگر نیک مکر۔ ایسا ہی طالب علم یا وکلاء یا ڈاکٹروں کاامتحان لینے والے یا کسی اور صیغہ میں جو ممتحن ہوتے ہیں وہ بھی نیک نیتی سے سوال بنانے کے وقت ایک حد تک مکر کرتے ہیں۔ پس اسی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ مکر جو خدا کی شان کے مناسب حال ہیں وہ اس قسم کے ہیں جن کے ذریعہ سے وہ نیکوں کو آزماتا ہے اور بدوں کو جو اپنی شرارت کے مکر نہیں چھوڑتے سزا دیتا ہے اور اُس کے قانون قدرت پر نظر ڈال کر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مخفی رحمتیں یا مخفی غضب
اس کے قانون قدرت میں پائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مکّار شریر آدمی جو اپنے بدمکروں سے باز نہیں آتا بعض اسباب کے پیدا ہونے سے خوش ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ ان اسباب کے ذریعہ سے جو میرے لئے میسر آگئے ہیں ایک مظلوم کو انتہا درجہ کے ظلم کے ساتھ پیس ڈالوں گا مگر انہیں اسباب سے خدا اسی کو ہلاک کردیتا ہے اور یہ خدا کا مکر ہوتا ہے جو شریر آدمی کو اُن کاموں کے بد نتیجے سے بے خبر رکھتا ہے اور اُس کے دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ اس مکر میں اُس کی کامیابی ہے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ایسے کام خدا تعالیٰ کے دنیا میں ہزارہا پائے جاتے ہیں کہ وہ ایسے شریر آدمی کو جو بد مکروں سے بے گناہوں کو دُکھ دیتا ہے اپنے نیک اور عدل کے مکر سے سزا دیتا ہے۔
اب ہم عام فائدہ کے لئے کتاب لسان العرب سے جو ایک پرانی اور معتبر کتاب لغت کی ہے مکر کے معنے لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے المکر احتیال فی خفیۃ۔ وان الکید فی الحروب حلالٌ۔ وا لمکر فی کل حلا ل حرام۔ قال ا للّٰہ تعا لٰی