طرفداری نہ ہو اس تحریر سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہ شخص ہوش و حواس کی قائمی سے بات نہیں کرتا کیونکہ جس قدر وید پکش پات اور طرفداری سے بھرا ہوا ہے اس کا نمونہ دوسری جگہ ملنا ناممکن ہے مثلاً اس سے بڑھ کر طرفداری کیا ہوگی کہ باوجودیکہ کروڑہا اربوں بلکہ بے شمار مدتوں سے دنیا چلی آتی ہے لیکن اب تک پرمیشر نے اس طرفداری اور پکش پات کو نہیں چھوڑا کہ ہمیشہ آریہ ورت میں ہی وید کو نازل کرتا رہا ہے اور سنسکرت زبان میں ہی نازل کرؔ تا ہے اور ہمیشہ اُس کی پارلیمنٹ میں ملہم بننے کے لئے اگنی۔ وایو۔ آدت۔ انگرا ہی انتخاب کئے جاتے ہیں۔ پس کیا اس طرفداری سے بڑھ کر کوئی اور بھی طرفداری ہوگی کہ جو وید میں پائی جاتی ہے کہ ہمیشہ الہامی کتاب کے لئے آریہ ورت کو ہی اختیار کرتا ہے اور قدیم سے سنسکرت زبان میں ہی الہام کرتا چلا آیا ہے ایسا ہی اُس کو الہام دینے کے لئے اگنی۔ وایو۔ انگرا۔ آدت ہی پسند آتے ہیں۔ اور ہمیشہ ایسی اعلیٰ جون اُن کو دیتا ہے کہ جو لائق الہام پانے کے ہوتی ہے اور یہ معاملہ نہ ایک دفعہ نہ د و دفعہ نہ تین دفعہ ظہور میں آتا ہے بلکہ بیشمار اربوں تک اس پر گذر چکے ہیں کہ وہ ایسا ہی کرتا ہے اور جس طرح گورنمنٹ برطانیہ کے افسروں کو گرمی کے دنوں میں شملہ پسند آیا ہوا ہے پرمیشر کو آریہ ورت پسند آگیا ہے۔ دوسرے ملکوں کے باشندوں سے بے وجہ ناراض ہے یا اب تک اس کو اُن کے وجود کا علم ہی نہیں۔ اب کوئی آریہ صاحب انصاف سے فرماوے کہ کیا یہ طریق پرمیشر کا طرفداری اور پکش پات ہے یا کوئی اور بات ہے ؟ اور اگر کوئی اور بات ہے تومع دلائل اُس کو بیان کردیں۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ نشانی بتلائی کہ اس میں ایسی باتیں نہ ہوں کہ خدا نے فلاں کام میں مکّاری کی۔ اس کا جواب ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ مکر اُن باریک تدبیروں اور تصرفات کو کہتے ہیں کہ وہ ایسے مخفی اور مستور ہوں کہ جس شخص کے لئے وہ تدابیر عمل میں لائی گئی ہیں وہ اُن تدبیروں کو شناخت نہ کرسکے اوردھوکا کھاجائے پس مکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ (۱) اوّل وہ کہ جن کے عملدرآمد سے ارادہ خیر اور بہتری کا کیا گیا ہے اور کسی کو نقصان پہنچانا