کی ؔ حد بندی اِس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اُن کا بھی کوئی خالق اور حدباندھنے والا ہے۔ اور اس جگہ تناسخ کا لغو اور بیہودہ جھگڑا پیش کرنا خدا تعالیٰ کے کاموں میں اختلاف ڈالنا ہے کیونکہ عقل صریح شہادت دیتی ہے کہ یہ دونوں حد بندیاں ایک ہی انتظام کے ماتحت ہیں اور ان دونوں حد بندیوں سے ایک ہی مقصود ہے اوروہ یہ کہ تاحدبندی سے حد باندھنے والے کا پتہ لگ جائے اور تا معلوم ہو جائے کہ جیسا کہ وہ اجسام کا خالق اور حد باندھنے والا ہے ایسا ہی وہ ارواح کا خالق اور حد باندھنے والا ہے۔
پس آریہ صاحبوں کی یہ عجیب چالاکی ہے کہ دراصل تو وہ پرمیشر کو مالک ہونے سے جواب دیتے ہیں اور ہر ایک رُوح اور ذرّہ کو خودبخود سمجھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ وہ ہر ایک چیز کا مالک ہے۔ مالک تو تب ہوتاکہ ہر ایک کی حد بندی کرنے والا وہی ٹھہرتا۔ اور پھرہم کہتے ہیں کہ حیوانات کی طاقتوں اور قوتوں کی تفاوت کا سبب تناسخ اور آواگون کو قرار دینا خدائے حکیم کے علم اور ست وِدّیا کو ضائع کرنا اور اس کی وحدت نظامی کو درہم وبرہم کرنا ہے۔ جس حالت میں تم مثلاً ستاروں اور سورج اور چاند پر نظر ڈال کر اپنے منہ سے اقرار کرتے ہوکہ وہ تفاوت جو ان ستاروں کی قوت اور طاقت اور تمام لوازم میں واقع ہے وہ کسی تناسخ اور آواگون کا موجب نہیں بلکہ حکمت او ر مصلحت الٰہیہ نے یہی چاہا تا ہر ایک چیز اپنی اپنی حد بندی کی رُو سے حد باندھنے والے پر دلالت کرے اور اس طرح اس غیب الغیب اور وراء الوراء پر ایک دلیل قائم ہو جائے تو پھر کیوں اُسی منہ سے وہ تفاوت جو حیوانات میں پایاجاتا ہے اس کو تم تناسخ اور آواگون کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہو۔ یا تویہ مان لو کہ کل تفاوت اور باہمی فرق طاقتوں اور قوتوں اور خاصیتوں کا جو آسمان کے ستاروں اور زمین کے جمادات نباتات حیوانات میں پایا جاتا ہے ان سب کا سبب تناسخ اور آواگون ہے اور یا یہ مان لو کہ یہ تمام تفاوت اور مختلف قسم کی حدبندیاں تمام عالم کی چیزوں میں خواہ وہ حیوانات ہیں یا غیر حیوان یہ صرف اسی وجہ سے ہیں کہ تاان حد بندیوں سے ایک ذات حد باندھنے