کچھ انسان کو کوئی بہتری اور خیر اور فیض پہنچتا ہے وہ تمام اُس کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ جو کچھ وید کے رشیوں پر الہام ہوا ہے وہ پرمیشر کا کچھ بھی احسان اور فیضان نہیں بلکہ خود ان رشیوں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔پس یہ عجیب پرمیشر ہے نہ روحوں کو اُس نے پیدا کیا اور نہ اُن کو کوئی فیض پہنچا سکتا ہے اور پھر یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ تمام فیوض کا منبع ہے۔ کیا یہ صریح تناقض اور اختلاف بیانی وید میں موجود ہے یا نہیں ؟
ایسا ہی وید کی طرف سے یہ دعویٰ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ توحید کی دعوت کرتا ہے حالاؔ نکہ دوسری طرف وید کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خدا اپنی ازلیت و ابدیت میں واحد نہیں بلکہ ذرّہ ذرّہ اس عالم کا اور نیز تمام روحیں ازلیّت و ابدیّت میں اُس کی شریک ہیں اور نیز ایک طرف تو وید کی طرف توحید کو منسوب کیا جاتا ہے اور دوسری طرف کھلے کھلے طور پر وہ مخلوق پرستی کی تعلیم دیتا ہے اور اگنی وایو وغیرہ کی پرستش سے سارا وید بھرا پڑا ہے۔
پس جس حالت میں وید کی اختلاف بیانی اور تناقض کا یہ حال ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وید نے اس شرط کو پورا نہیں کیا اور نہ اس نے ایسا دعویٰ کیا کہ اس میں اختلاف بیان نہیں لیکن قرآن شریف یہ دعوےٰ کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 3 3 ۱ یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں تدبّر نہیں کرتے اور اگر وہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔ اور ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں تو اس زمانہ کے لوگوں کا حق تھا کہ اگراُن کے نزدیک کوئی اختلاف تھا تو وہ پیش کرتے مگر سب ساکت ہوگئے اور کسی نے دم نہ مارا۔ او راختلاف کیونکر اور کہاں سے ممکن ہے جس حالت میں تمام احکام ایک ہی مرکزکے گرد گھوم رہے ہیں یعنی علمی اور عملی رنگ میں اور درشتی اور نرمی کے پیرایہ میں خدا کی توحید پر قائم کرنا اور ہواو ہوس چھوڑا کر خدا کی توحید کی طرف کھینچنا یہی قرآن کا مدّعا ہے۔
مضمون پڑھنے والے نے ایک او رنشانی الہامی کتاب کی یہ پیش کی کہ اس میں کسی کی