میں بھی کوئی تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ مکان الگ الگ ہیں اور یہ کہنا کہ زید کو میں دو روپیہ اُجرت دوں گا بشرطیکہ وہ سارا دن میرا کام کرے اور یہ کہنا کہ زید کو میں صرف آٹھ آنہ اُجرت دوں گا بشرطیکہ وہ صرف ایک پہر میرا کام کرے۔ ان دونوں فقروں میں بھی کوئی تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ شرطیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ غرض جب تک ان تمام امور متذکرہ بالا میں وحدت نہ پائی جائے اور ہر ایک قسم کی زمانی مکانی وغیرہ تفریق سے دو بیان خالی نہ ہوں تب تک نہیں کہا جائے گا کہ وہ دو بیان متناقض ہیں۔ لیکنؔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس تناقض سے وید بھرا ہوا ہے جیسا کہ ایک طرف تو وید خد ا تعالیٰ کو قادر مطلق مانتا ہے اور اُس کو سرب شکتی مان جانتا ہے اور دوسری طرف اس کی قدرت کے تمام کاموں سے انکاری ہے اس کے خالق ارواح اور اجسام ہونے سے منکر ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ وہ کھلے کھلے طور پر یہ عقیدہ سکھلاتا ہے کہ کیا ارواح اورکیا اُن کی تمام طاقتیں اور قوتیں اور اُن کے عجیب خواص سب خود بخود ہیں اور پرمیشر نے اُن کو پیدا نہیں کیا ایسا ہی اجسام کے ذرّات اور اُن کی تمام طاقتیں اور قوتیں خود بخود ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ کس قدر تناقض ہے کہ ایک طرف تو پرمیشر کی کامل قدرت کو ماننا اور دوسری طرف سرے سے تمام قدرتی کاموں سے اُس کو جواب دے دینا ؟ ایسا ہی ایک طرف تو وید اقراری ہے کہ پرمیشر تمام فیضوں کامنبع اور سرچشمہ ہے اور دوسری طرف قطعاً اس بات سے انکاری ہے کہ کوئی فیض پرمیشرکا جاری ہے کیونکہ جس حالت میں روحوں کی تمام طاقتیں اور قوتیں اور اجسام کی تمام طاقتیں اور قوتیں قدیم سے خودبخود ہیں اور انہیں طاقتوں کے ذریعہ سے وہ علوم و فنون حاصل کرتی ہیں۔ تو کیا اس سے ثابت نہ ہوا کہ پرمیشر کا اُن پر ذرہ فیض نہیں ؟ اور اگرکہو کہ اگرچہ وہ قوتیں تو خودبخود ہیں لیکن علوم اورمعارف کا فیض تو پرمیشر کی طرف سے ہوتا ہے اِس کا جواب یہ ہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے پرمیشر اپنی طرف سے کوئی نیکی اور خیر اور فیض انسان کو نہیں پہنچا سکتا اور جو