کہ وید توحید اور معرفت الٰہی کا سخت مخالف اور دشمن ہے اور ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے پس جس کتاب نے ایسی گندی تعلیم پھیلائی ہے کہ نہ تو حید کو باقی چھوڑا اور نہ عمل صالح کی ترغیب دی اور نہ ایک ذرہ بھر اُس میں کوئی خوبی ہے اُس کی ایسی تعریف کرنا کہ گویا اس کے بعد کسی الہامی کتاب کی حاجت نہیں یہ سراسر بے حیائی ہے اور خواہ نخواہ خدا کی کتابوں پر بے جا حملہ ہے۔ ہم پہلے اس سے لکھ چکے ہیں کہ چونکہ انسانی حالت ایک طور پر نہیں رہی اور نوعِ انسان پر بڑے بڑے انقلاب آئے ہیں پس مصلحت اور حکمت الٰہی کا یہی تقاضا تھا کہ ہر ایک تغیر کے مناسب حال کتاب نازل ہو۔ جیسا کہ بہت آسانی سے یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ ابتدائے زمانہ میں کسی کامل کتاب کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ابتدائے زمانہ میں نہ گناہوں کا زور ہوتا ہے۔ نہ بدعقیدگی کا طوفان برپا ہوتا ہے اور لوگ سیدھے سادے ہوتے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ جسمانی طور پر بھی جہاں تندرست اور صحیح سالم لوگ موجود ہوں وہاں چنداں طبیب کی حاجت نہیں ہوتی کیونکہ جہاں بیمار ہیں طبیب بھی وہیں جاتا ہے پس عندالعقل زمانہ تین قسم پر تقسیم ہوسکتا ہے۔
(۱) ایک صلاحیت کا زمانہ جوابتدائی زمانہ تھا۔
(۲) دوسرا نیک و بد کی برابری کا زمانہ جس کو درمیانی زمانہ کہہ سکتے ہیں۔
(۳) تیسرا معاصی اور مفاسد کا زمانہ جس کو ہندی میں کلجگ کہتے ہیں سو وہ زہریلا زمانہ طوفان معاصی کا اس لائق تھا کہ کامل کتاب اس میں بھیجی جاوے سو وہ قرآن شریف ہے۔
وید نے جو کچھ کمال ظاہر کیا ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں (۱) اس نے اپنے پرمیشر کو خالق ہونے سے جواب دے دیا (۲) اُس نے رُوحوں کو اُن کی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ خود بخود سمجھ لیا (۳) اُ س نے تمام ذرّات عالم کو مع اُن کے خواص اور طاقتوں کے پرمیشر کی طرح اپنے وجود کے آپ ہی خدا مان لیا(۴) اُس نے خدا کی صفت وحی اور الہام کو ہمیشہ کے لئے معطل قراردیا (۵) اُس نے اُن تمام دلائل سے انکار کیا جن سے خدا کے وجود کا پتہ لگتا ہے (۶) اُس نے پرمیشر کو ایک بخیل اور پکش پات اور طرفداری کرنے والا ٹھہرایا کہ جو