ہمیشہ آریہ ورت سے ہی تعلق رکھتا ہے اور انہیں پر الہام نازل کرتا ہے دوسروں پر بے وجہ ناراض ہے گویا اُسی قوم سے اُس کا رشتہ اور قرابت ہے اور گویا دوسرے ملکوں کے لوگ اس کے بندے ہی نہیں یا اُن کے وجود سے ہی بے خبر ہے (۷) اُس نے نیوگ کے ناپاک طریق کے لئے تاکیدی حکم دے کر ہزاروں عورتوں کی عفت میں خلل ڈالا(۸) اُس نے تناسخ کا عقیدہ پیش کرکے آریوں کو کوئی ایسا قاعدہ نہ بتلایا جس سے سمجھا جاتا ہے کہ مثلاً دوبارہ آنے والی کوئی لڑکی اُسی شخص کی ماں یادادی تو نہیں جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہے (۹) اُس نے یہ عقیدہ ظاہر کیا کہ گویا پرمیشرکو ایک ایسا بدمکر کرنے کی عادت ہے جو مکتی دینے کے وقت پوشیدہ طور پر مکتی یاب کے ذمّہ ایک گناہ رکھ لیتا ہے اور پھر اُسی گناہ کا الزام دے کر مکتی خانہ سے اُس کو باہر نکالتا ہے (۱۰) اُس نے اپنے پرمیشر پر یہ نہایت قابل شرم دھبہ لگایا کہ وہ جاودانی مکتی دینے پر قادر نہیں ہے اور پھر جھوٹ یہ بولا کہ اعمال محدود ہیں اس لئے جزا بھی محدود ہی چاہیئے حالانکہ یہ بیان خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ بموجب اصول آریوں کے پرمیشر اِس لئے مکتی خانہ سے ہر ایک رُوح کو باہر نہیں کرتا کہ اعمال محدود ہیں بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ اُس کو یہ قدرت ہی نہیں ہے کہ کسی کو دائمی مکتی دے سکے وجہ یہ کہ اگر دائمی مکتی سب رُوحوں کو دیدے تو پھر آئندہ اپنا کام کیونکر چلاوے اور پھر نئی پیدائش ظاہر کرنے کے لئے کہاں سے نئی رُوحیں لاوے؟ حالانکہ بموجب عقیدہ وید کے یہ ضروری امر ہے کہ ہمیشہ سلسلہ جونوں کا جاری رہے مگر جو لوگ ہمیشہ کے لئے آواگون سے نجات پاچکے وہ کیونکر دوبارہ جونوں کے چکر میں آسکتے ہیں؟ پس پرمیشر پر یہ مصیبت پڑی کہ ہمیشہ کی مکتی دینے سے اُس کا تمام کاروبار بند ہو جاتاہے کیونکہ نئی روحوں کے پیدا کرنے پر تووہ قادر ہی نہیں۔ اس صورت میں وہ کہاں سے نئی روحیں لاتا؟ ناچار میعادی مکتی قراردی گئی تا کسی طرح اُس کے راج اور حکومت میں فرق نہ آوے۔ یہ ہے ہندوؤں کا پرمیشر اور یہ ہیں وید کی ہدایتیں جن کی بِناء پر مضمون پڑھنے والے نے کہا کہ وید کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت نہیں۔ پس درحقیقت