صریح فسق وفجور میں داخل ہوتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اکثر انسانوں کے لئے اوّل مرحلہ گندی زندگی کا ہے اور پھر جب سعید انسان اوائل عمر کے تُند سیلاب سے باہر آجاتا ہے تو پھر وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتا ہے اور سچی توبہ کرکے ناکردنی باتوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اپنے فطرت کے جامہ کو پاک کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ یہ عام طورپر انسانی زندگی کے سوانح ہیں جو نوع انسان کو طَے کرنے پڑتے ہیں۔ پس اِس سے ظاہر ہے کہ اگر یہی بات سچ ہے کہ توبہ قبول نہیں ہوتی تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہی نہیں کہ کسی کو نجات دے۔ پس جب کہ خدا نومیدی کا جواب دے چکا ہے اور کسی پلید جون میں ڈالنے کا اُس کا پختہ ارادہ ہے تو ایسی حالت میں جس کو یہ خواہش ہو کہ وہ گندی زندگی سے رُستگار ہوکر اسی زندگی میں واصلانِ الٰہی میں سے ہو جاوے وہ کیونکر برخلاف خدا کے ارادہ کے اس خواہش کو پوری کرسکتا ہے؟ اور کیونکر وہ ؔ خدا کی راہ میں کوئی معاہدہ کرسکتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ میرے لئے خدا کے فضل کا دروازہ قطعاً بند ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اب بہرحال میرے لئے کوئی کتّا یا بلّا یا سؤر بننا ضروری ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی پیش کی کہ وہ کتاب اپنے آپ میں مکمل ہو یعنی اپنے بعد کسی دوسری کتاب کی اُس کو حاجت نہ ہو۔ اب اِس چالاکی کی طرف خیال کرو کہ یہ کس قسم کی نشانی لکھی ہے۔ چونکہ آریوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وید ایک ایسی کتاب ہے کہ اُس کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی اس لئے اُس نے اپنی غرض پوری کرنے کیلئے اس عقیدہ کو الہامی کتاب کی نشانیوں میں داخل کردیا۔ تنقیح طلب تو یہ امر ہے کہ کیا درحقیقت وید ایک ایسی کامل مکمل کتاب ہے کہ اس کے بعدکسی دوسری کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔ سوجب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو صریح معلوم ہوتا ہے کہ وید کو ایسی صفت سے موسوم کرنا سراسر اس پر تہمت ہے۔ وید کے ذریعہ سے جو کچھ آریہ ورت میں ظاہر ہوا ہے وہ یہی عناصر پرستی اور مخلوق پرستی اور سورج اورچاند کی پوجا ہے یانیوگ ہے اور کئی مرتبہ ہم لکھ چکے ہیں