کمزوری درحقیقت ایک سچا اور واقعی زہر ہے ؟ اور درحقیقت خدا کا نام توّاب یعنی توبہ قبول کرنے والا اِسی انسانی کمزوری کے تقاضا سے ظہور پذیر ہے اور معاف کرنا ایک ایسا فعل ہے کہ وقت مناسب پر انسانی فطرت اُس کو قبو ل کرتی ہے اس لئے عقل سلیم کے نزدیک ایک سخت گیر انسان جو کبھی اپنے نوکروں کے قصور معاف نہیں کرتا قابل ملامت ہوتا ہے تو پھر پرمیشر جس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ تمام اخلاق حسنہ کاجامع ہے اور ہرایک خلق میں کامل اور سب سے بڑھ کر ہے کس قدر اُس کی شان سے دور ہے کہ وہ اپنے گنہ گاروں کے مقابل پر معافی اور بخشش کا کبھی نام نہ لے اور ادنیٰ ادنیٰ باتوں میں سزا دینے کے لئے تیار ہو جائے اور نیز اس میں جود و سخا کی صفت نہ ہو انسان صرف ایک مزدور کی طرح جس قدر مزدوری کرے اسی قدر بدلہ لے۔ ایسے پرمیشر سے کہاں توقع ہوسکتی ہے ؟کہ وہ کسی وقت احسان اورمروّت سے پیش آوے اور کسی لغزش کے وقت قصور معاف فرمادے بلکہ انسانوں کے لئے اُسؔ کی حکومت خطرناک اور اپنی سخت بدقسمتی کا موجب ہے۔
یاد رہے کہ توبہ اور مغفرت سے انکار کرنا درحقیقت انسانی ترقیات کے دروازہ کو بند کرنا ہے کیونکہ یہ بات تو ہر ایک کے نزدیک واضح اور بدیہیات سے ہے کہ انسان کامل بالذّات نہیں بلکہ تکمیل کا محتاج ہے اور جیسا کہ وہ اپنی ظاہری حالت میں پیدا ہوکر آہستہ آہستہ اپنے معلومات وسیع کرتا ہے پہلے ہی عالم فاضل پیدا نہیں ہوتا۔ اِسی طرح وہ پیداہوکر جب ہوش پکڑتا ہے تواخلاقی حالت اُس کی نہایت گری ہوئی ہوتی ہے چنانچہ جب کوئی نو عمر بچوں کے حالات پرغور کرے تو صاف طور پر اس کو معلوم ہوگا کہ اکثر بچے اس بات پر حریص ہوتے ہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ نزاع کے وقت دوسرے بچہ کو ماریں اور اکثر اُن سے بات بات میں جھوٹ بولنے اور دوسرے بچوں کو گالیاں دینے کی خصلت مترشح ہوتی ہے اور بعض کو چوری اور چغلخوری اور حسد اور بخل کی بھی عادت ہوتی ہے اور پھر جب جوانی کی مستی جوش میں آتی ہے تو نفس امّارہ اُن پر سوار ہو جاتا ہے اور اکثر ایسے نالائق اورناگفتنی کام اُن سے ظہور میں آتے ہیں جو