بھول جاتے ہیں۔ کیا ایسا پرمیشر کہ جو کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اور کسی کو محض جو داور سخا کے طور پر کچھ دے نہیں سکتا وہ دوسروں کو باوجود اپنے اس ذاتی نقص کے کب اعلیٰ اخلاق سکھلا سکتا ہے؟ جس حالت میں خود پرمیشر میں صفت رحمت اورمغفرت کی موجود ہی نہیں ہے اور جود وسخا اُس کی عادت ہی نہیں ہے تو پھر وہ دوسروں کو یہ اخلاق فاضلہ کیسے سکھلائے گا۔ اب اگر آریہ لوگ یہ جواب دیں کہ یہ صفات اعلیٰ اخلاق میں داخل نہیں ہیں اور یہ بُری صفات ہیں اچھی نہیں ہیں تو اس سے اُن کو ماننا پڑے گا کہ وہ خود ان اخلاق کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُن کے پابند نہیں ہیں مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا اُن کا کانشنس اس بات کوناپسند کرتا ہے کہ اگر اُن سے کوئی جرم صادر ہو جائے اور کوئی راہ مَخلصی کی نہ ہو تو وہ معافی کے لئے اپنے تئیں گورنمنٹ کے حوالہ کریں یا گورنمنٹ خود ہی اُن کو معاف کردے اور کیا وہ درحقیقت نہیں چاہتے کہ کوئی ثابت شدہ جرم اُن کا گورنمنٹ بخش دے پس جب کہ اُن کی فطرت میں درحقیقت یہ تقاضا موجود ہے جس کو ایسے وقتوں میں بے اختیار ظاہرکرتے ہیں کہ جب وہ گورنمنٹ کے کسی مواخذہ میں ہوتے ہیں پس اُن کو سوچنا چاہئے کہ یہ فطرتی تقاضا کس نے اُن کے اندر پیدا کیا ہے ؟اور اگر خدا تعالیٰ کا ارادہ یہ نہ ہوتا کہ توبہ کرنے والوں پر رحم کرکے اُن کو بخش دیا کرے تو انسانوں کی فطرت میں یہ تقاضا کیوں رکھتا ؟ اور درحقیقت تمام اخلاق میں سے اعلیٰ خلق یہی ہے کہ انسان اپنے قصورواروں کے قصور معاف کرے اور اپنے گنہ کرنے والوں کے گناہ بخش دے۔ پس اگر پرمیشر میں یہ خلق نہیں ہے تواُس سے کیا توقع ہوسکتی ہے؟ اور جس حالت میں انسان کے لئے یہ امرمحال ہے کہ اُس کے تمام حقوق ادا کرکے اور تمام خطاؤں سے بچ کر بکلّی نیک اور پاک ہونے کا دعویٰ کرے تو اس صورت میں یہ کہنا کہ نجات اِسی امر پرموقوف ہے کہ انسان بکلّی گناہوں سے بذریعہ سزا کے صاف ہوکر ایسے جنم میں وجود پذیر ہوکہ تمام عمر کوئی گناہ نہ کرے۔ یہ قول محض ایک ایسے پاگل اور دیوانہ کا قول ہوسکتا ہے کہ جو انسانی فطرت کی کمزوری سے بے خبر ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انسانی