وہ توبہ اور استغفار کرے تو خدا کی رحمت اُس کو ہلاک ہونے سے بچالے اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ اگر خدا توبہ قبول کرنے والا نہ ہوتا تو انسان پر یہ بوجھ صدہا احکام کا ہرگز نہ ڈالا جاتا*۔ اِس سے بلاشبہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا توّاب اور غفور ہے اور توبہ کے یہ معنی ہیں کہ انسان ایک بدی کو اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دے کہ بعد اس کے اگروہ آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی ہرگز نہیں کرے گا۔ پس جب انسان اس صدق اور عزم محکم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا اپنی ذات میں کریم و رحیم ہے وہ اس گناہ کی سزا معاف کردیتا ہے اور یہ ؔ خداکی اعلیٰ صفات میں سے ہے کہ توبہ قبول کرکے ہلاکت سے بچا لیتا ہے اور اگرانسان کو توبہ قبول کرنے کی امید نہ ہوتو پھر وہ گناہ سے باز نہیں آئے گا۔ عیسائی مذہب بھی توبہ قبول کرنے کا قائل ہے مگر اس شرط سے کہ توبہ قبول کرنے والا عیسائی ہو لیکن اسلام میں توبہ کے لئے کسی مذہب کی شرط نہیں ہے۔ ہرایک مذہب کی پابندی کے ساتھ توبہ قبول ہوسکتی ہے اورصرف وہ گناہ باقی رہ جاتا ہے جو کوئی شخص خدا کی کتاب اور خدا کے رسول سے منکر رہے اور یہ بالکل غیرممکن ہے کہ انسان محض اپنے عمل سے نجات پاسکے بلکہ یہ خدا کا احسان ہے کہ کسی کی وہ توبہ قبول کرتا ہے اور کسی کو اپنے فضل سے ایسی قوت عطا کرتا ہے کہ وہ گناہ کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔
مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی بیان کی کہ اس میں اعلیٰ اخلاق سکھلائے گئے ہوں۔ مگر مجھے تعجب ہے کہ اتنی جلدی کیوں یہ لوگ وید کی تعلیم کو
* توبہ کرنے والے اپنا صدق ظاہر کرنے کے لئے صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں اور اپنی طاقت سے زیادہ
خدمات مالی اور جانی بجا لاتے ہیں اور مجاہدہ اور اعمال صالحہ کی آگ سے اپنے تئیں جلا دیتے ہیں اور نہایت درجہ کی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرتے ہیں اور موت تک اپنے تئیں پہنچا دیتے ہیں اور پھر وید کہتا ہے کہ توبہ ان کی قبول نہیں ہوتی گویا وید اپنے پرمیشر کو اس سخت دل انسان کی طرح قرار دیتا ہے جس کو اپنے جاں نثار خادم کی کچھ بھی پروا نہیں مگر کیا انسانی فطرت قبول کر سکتی ہے کہ درحقیقت وہ خدا جس کے رحم کے سوا ایک دم بھی ہم جی نہیں سکتے ایسا ہی ہے ہر گز نہیں ۔ منہ