بندوں سے مکالمہ مخاطبہ کرتاتھا اب بھی کرتا ہے اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف لفظی نزاع ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے اُن کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں یعنی اس قدر کہ اُس کے زمانہ میں اُس کی کوئی نظیر نہ ہو اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں۔ کیونکہ نبی اُس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بہ کثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الٰہیہ کے قائل ہیں۔ لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے حالانکہ نبوت صرف آئندہ کی خبر دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی و الہام ہو۔ اور ہم سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ شریعت قرآن شریف پر ختم ہوگئی ہے صرف مبشرات یعنی پیشگوئیاں باقی ہیں۔
اور پھر خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ایک صفت تقدّس بھی ہے یعنی یہ کہ وہ ہر ایک عیب اور نقصان سے پاک ہے لیکن ظاہر ہے کہ گونگا ہونا ایک عیب ہے۔ ایسا ہی باوجود دعوےٰ قدرت کے ایک رُوح کو بھی پیدا نہ کر سکنا یہ بھی عیب ہے۔ ایسا ہی اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے کوئی پختہ اورمحکم دلائل پیش نہ کرنا یہ بھی عیب ہے۔ ایسا ہی اُس کے مقابل پر ازلی اور ابدی طور پر کوئی اور وجود بھی ہونا یہ بھی اس کے لئے عیب ہے۔ پس باوجود اس قدر عیبوں کے تقدس کہاں رہ سکتا ہے۔ 3 ۱ ۔
ایک اور ضروری صفت خدا تعالیٰ کی ہے جس کو وید اندر ہی اندر ہضم کرگیا ہے اور وہ اُس کا توّاب اور غفور ہونا ہے اور توّاب اورغفور کے یہ معنی ہیں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور گنہ بخشنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان اپنی فطرت میں نہایت کمزور ہے اور خدا تعالیٰ کے صدہا احکام کا اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے پس اُس کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے بعض احکام کے ادا کرنے سے قاصر رہ سکتا ہے اور کبھی نفسِ امّارہ کی بعض خواہشیں اُس پرغالب آجاتی ہیں پس وہ اپنی کمزور فطرت کی رُو سے حق رکھتا ہے کہ کسی لغزش کے وقت اگر