میں ؔ بڑا فرق ہے اگر تمام ڈاکٹر اس بات کے لئے اکٹھے ہوں کہ انسان اپنی جسمانی طاقتوں اور جسم کی ضخامت میں ہاتھی کے برابر ہو جاوے تو یہ اُن کے لئے غیر ممکن ہے۔اور اگر یہ چاہیں کہ ہاتھی محض انسان کے قد تک محدود رہے تو یہ بھی اُن کے لئے غیرممکن ہے پس اس جگہ بھی ایک تحدید ہے یعنی حد باندھنا جیسا کہ سورج اور چاند میں ایک تحدید ہے اوروہی تحدید ایک محدّد یعنی حد باندھنے والے پر دلالت کرتی ہے یعنی اُس ذات پر دلالت کرتی ہے جس نے ہاتھی کو وہ مقدار بخشا اور انسان کے لئے وہ مقدار مقرر کیا۔ اور اگر غور کرکے دیکھا جائے تو ان تمام جسمانی چیزوں میں عجیب طور سے خدا تعالیٰ کاایک پوشیدہ تصرّف نظر آتا ہے اور عجیب طور پر اس کی حدبندی مشاہدہ ہوتی ہے۔ اُن کیڑوں کی مقدار سے لے کرجو بغیر دُوربین کے دکھائی نہیں دے سکتے اُن بڑی بڑی مچھلیوں کی مقدار تک جو ایک بڑے جہاز کو بھی چھوٹے سے لقمہ کی طرح نگل سکتی ہیں۔ حیوانی اجسام میں ایک عجیب نظارہ حد بندی کا نظر آتا ہے کوئی جانور اپنے جسم کی رُو سے اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتا۔ ایسا ہی وہ تمام ستارے جو آسمان پر نظر آتے ہیں اپنی اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتے۔ پس یہ حد بندی دلالت کر رہی ہے کہ درپردہ کوئی حد باندھنے والا ہے۔ یہی معنی اس مذکورہ بالا کی آیت کے ہیں کہ 3 ۱ ۔
اب واضح ہو کہ جیسا کہ یہ حد بندی اجسام میں پائی جاتی ہے ایسا ہی یہ حد بندی ارواح میں بھی ثابت ہے۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر انسانی روح اپنے کمالات ظاہر کرسکتا ہے یا یوں کہو کہ جس قدر کمالات کی طرف ترقی کرسکتا ہے وہ کمالات ایک ہاتھی کی رُوح کو باوجود ضخیم اور جسیم ہونے کے حاصل نہیں ہوسکتے۔ اِسی طرح ہر ایک حیوان کی رُوح بلحاظ اپنی قوتوں اور طاقتوں کے اپنے نوع کے دائرہ کے اندر محدود ہے اور وہی کمالات حاصل کرسکتے ہیں کہ جو اس کے نوع کے لئے مقرراور مقدّر ہیں۔ پس جس طرح اجسام کی حدبندی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اُن کا کوئی حد باندھنے والا اور خالق ہے۔اسی طرح ارواح کی طاقتوں