کی صفت خالقیت سے انکار کیا اور بعد اس کے خدا تعالیٰ کی صفت رازقیت اور رحمانیت سے وید منکر ہوبیٹھا۔ اس طرح پر وید نے خدا تعالیٰ کی ؔ تمام صفات کی صفائی کر دی اور اعلیٰ صفات کا تو ذکر کیا کل تمام صفات سے ہی جواب دیا۔ اس لئے ہم بزور کہتے ہیں کہ وید کے رُو سے ہندوؤں کا پرمیشر ہر ایک صفت سے معطل ہے نہ قادر ہے نہ خالق ہے نہ واحد لاشریک ہے نہ رازق ہے نہ رحمن ہے نہ منعم ہے بلکہ تمام مدار اپنے اپنے اعمال پر ہے پرمیشر میں کوئی صفت نہیں۔ پس خیال کرناچاہئے کہ کہاں تو یہ دعویٰ کہ الہامی کتاب کی یہ نشانی ہے کہ جس میں اعلیٰ درجہ کے صفات پر میشر کے درج ہوں اور کہاں یہ حالت کہ ہندوؤں کے پرمیشر کی ایک صفت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ اورخدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ایک صفت تکلّم بھی ہے کیونکہ وہی ذریعہ فیضان اور ہدایتوں کا ہے لیکن بموجب عقیدہ آریوں کے کروڑہا برس کی مدت گذر گئی کہ وہ صفت بھی پرمیشر میں سے مفقود ہوگئی ہے اور اب نعوذ باللہ پرمیشر ہمیشہ کے لئے گُنگے کے طور پر ہے اور کلام کرنے پر قادر ہی نہیں اور اس صفت کے مسلوب ہونے سے دو نقصان ہوئے ہیں (۱) ایک یہ کہ پرمیشر ہمیشہ کے لئے ناقص ٹھہر گیا گویا اُس کی صفات کے اعضا میں سے ایک عضو کٹ گیا (۲) دوسرے یہ کہ اُس کے فیضان الہامی سے ہمیشہ کے لئے آریہ ورت کے لوگ محروم رہ گئے* اور اُن کے مذہب کا تمام مدار صرف قصوں کہانیوں پررہا۔ مگر اسلام کلام الٰہی کی صفت کو کبھی معطل نہیں کرتا اور اسلام کی رُو سے جیسا کہ پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے خاص * اگر بعض جاہل اور نادان جو نام کے مسلمان ہیں یہ عقیدہ رکھیں کہ اسلام میں بھی مکالمہ مخاطبہ الہٰیہ کا سلسلہ بند ہے تو یہ ان کی اپنی جہالت ہے کیونکہ قرآن شریف مکالمہ مخاطبہ الہٰیہ کے سلسلہ کو بند نہیں کرتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے 3 ۱؂ ۔ یعنی خدا جس پر چاہتا ہے اپنا کلام نازل کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ 3 ۲؂ ۔ یعنی مومنوں کے لئے مبشر الہام باقی رہ گئے ہیں گو شریعت ختم ہوگئی ہے کیونکہ عمر دنیا ختم ہونے کو ہے پس خدا کا کلام بشارتوں کے رنگ میں قیامت تک باقی ہے ۔ منہ