بھی خیال و گمان نہیں ہوتا ایسا ہی بموجب عقیدہ آریوں کے جب رُوح آواگون کے طو رپر واپس آتی ہے تو تمام علوم و فنون اور وید کی تعلیم اور گیان کو فراموش کرکے جنم لیتی ہے پس اگر فرض محال کے طور پر تناسخ سچ ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ رُوحوں کی زندگی جھوٹ ہے کیونکہ اگر پرمیشر کی طرح اُن میں ابدی زندگی ہوتی تو اُن پر یہ پتھر کیوں پڑتے کیا پرمیشر بھی اپنے علوم کو بھول جایا کرتا ہے؟ پس جو حادثہ رُوحوں کو اُن کے وہ علوم فراموش کرا دیتا ہے جو تمام عمر میں اُنہوں نے حاصل کئے تھے اسی حادثہ کا نام موت ہے * مگر آریہ کہتے ہیں کہ رُوحوں پرموت نہیں مگر ہم تعجب کرتے ہیں کہ کیاموت کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ظاہر ہے کہ جب اُن پر اتناتغیر آتا ہے کہ تمام عمرکی کمائی اُن کی ایک دم میں کھو دیتا ہے تو کیاموت کا لفظ اب تک اُن پر صادق نہیں آتا۔ یہ سچائی کس قدر ثابت ہے کہ آفتاب کی طرح چمکتی ہے مگر پھر بھی وید دائمی زندگی میں رُوحوں کو پرمیشر کے ساتھ برابر ٹھہراتا ہے۔ کیا یہ پرمیشر کی اعلیٰ درجہ کی صفت ہے کہ اُس کا زندگی میں غیر بھی شریک ہے ؟ اگرچہ اسلام بھی مخلوق کی نوعی قدامت کا قائل ہے مگراسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر ایک چیز مخلوق ہے اور ہر ایک چیز خدا کے سہارے سے قائم او رموجود ہے اور نیز اسلام ا س بات کا قائل ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا جو خدا کے ساتھ کوئی نہ تھا اور صرف وحدت اپنا جلوہ دکھلا رہی تھی اور خدا *حاشیہ ۔ انسانی روح نیند کی حالت میں اکثر دو حالتوں میں ہوتی ہے (ا) ایک تو اس پر ایسے بھاری تغیرات آتے ہیں کہ وہ بیداری کے علوم اور واقعات کو بالکل فراموش کر دیتی ہے اور نئے نظارے جو اس کے ارادہ اور اختیار سے باہر ہوتے ہیں اس کے سامنے آجاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی ارادی طاقتوں سے معطّل ہو کر مُردہ کی طرح ہوجاتی ہے (۲) دوسری بعض صورتوں میں ایسی سخت نیستی کی حالت اس پر وارد ہوتی ہے کہ اس کی ہستی کے صفات بکلی محو ہوجاتے ہیں مثلاََ اگر کسی کو کلورافارم سے انتہائی درجہ تک بیہوش کیا جائے تو اس قدر روح پر اور اس کے آثار پر نیستی وارد ہوتی ہے کہ اگر ایسے بیہوش کا کوئی عضو بھی کاٹ دیا جائے تو اس کو کچھ بھی خبر نہیں ہوتی پس جب کہ ایسی تمام صورتوں میں اپنی تمام حالتوں میں اپنی صفات سے روح معطل ہوجاتی ہے اور قطعاََ اپنی صفات کو چھوڑ دیتی ہے تو یہی صورت موت کی ہے ۔ منہ