ایک پوشیدہ خزانہ کی طرح تھا۔ پھر خدا نے چاہا کہ میں شناخت کیا جاؤں تو اُس نے اپنی شناخت کے لئے انسان کو پیدا کیا مگر ہم نہیں جانتے کہ کتنی دفعہ وحدت الٰہی کا زمانہ آچکا ہے اس کا علم خدا کو ہے لیکن جیسا کہ دوسری صفات ہمیشہ کے لئے معطل نہیں رہ سکتیں ایسا ہی وحدت الٰہی کی صفت بھی ہمیشہ معطل نہیں رہتی اور کبھی کبھی اس کا دور آجاتا ہے اور کبھی ذات الٰہی دنیا کو ہلاک کرنا چاہتی ہے اور کبھی پیدا کرنا کیونکہ احیاءؔ اور اماتت دونوں صفات اُس کے ہیں اس لئے ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ خدا ہر ایک جاندار کو ہلاک کرے گا یہاں تک کہ آسمان اور زمین کا بھی ایسے طور پر تختہ لپیٹ دے گا جیسا کہ ایک کاغذ لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس صورت میں تعطّل صفات کا لازم نہیں آتا کیونکہ بعض صفات کی جب تجلّی ہوتی ہے تو دوسری صفات جو اُن کے مقابل پر ہیں اور ان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں وہ کسی دوسرے وقت میں ظاہر ہوتی ہیں اور اس وقت کی منتظر رہتی ہیں اور یہ ایک سلسلہ قدرت کاواقعی ہے جس سے اہلاک کے بعد احیاء لازم پڑاہوا ہے پس انہیں معنوں سے ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کوئی صفت معطل نہیں ہوتی وہ قدیم سے مُحْیِیْ بھی ہے اور مُمِیْت بھی ہے اور کوئی صفت اُس کی ایسی نہیں ہے کہ پہلے تھی اور اب نہیں ہے یا اب ہے اور پہلے نہیں تھی۔ غرض ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی چیز خدا تعالیٰ کی وحدت کے ساتھ مزاحمت نہیں رکھتی محض اُسی کی ذات قائم بنفسہ اور ازلی اور ابدی ہے اور باقی سب چیزیں ہالکۃ الذّات اور باطلۃ الحقیقت ہیں۔ اور یہی خالص توحید ہے جس کے مخالف عقیدہ رکھنا سراسر شرک ہے۔ پس اس سے ظاہرہے کہ وید کے پیروپکے مشرک ہیں اور ذرّہ ذرّہ کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ پھر مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفات کے منکر ہوکر اور صریح طور پر اُن صفات کا انکار کرکے کیونکر کہہ دیتے ہیں کہ الہامی کتاب کی یہ شرط ہے کہ اعلیٰ درجہ کے صفات پرمیشر کے اُس میں درج ہوں۔ اے نادانو ! کیا یہ صفت خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی نہیں ہے کہ اُس کی ازلیت ابدیت میں کوئی شریک نہ ہو پھر کیوں وید اُس کی ازلیت ابدیت میں دوسری چیزوں کو شریک کرتا ہے۔ ہائے افسوس! تم کیوں نہیں سمجھتے کہ اس صفت کے نہ ماننے سے پرمیشر ہی ہاتھ سے