یہ باؔ ت یاد رہے کہ اس جگہ ایک نشان نہیں بلکہ دو نشان ہیں (۱) ایک یہ کہ لیکھرام کے مارے جانے کی بذاتِ خود ایک عظیم الشان پیشین گوئی ہے جس میں اس کے مارے جانے کا دن بتلایا گیا ہے موت کی قسم بتلائی گئی۔ مدت بتلائی گئی وقت بتلایا گیا۔ (۲) دوسری یہ کہ باوجود ہزار کوشش اور سعی کے قاتل کا کچھ بھی پتہ نہیں لگا گویا وہ آسمان پر چڑھ گیا یا زمین کے اندر مخفی ہو گیا اگر قاتل پکڑا جاتا اور پھانسی مل جاتا تو پیشگوئی کی یہ وقعت نہ رہتی بلکہ اس وقت ہر ایک کہہ سکتا تھا کہ جیسے لیکھرام مارا گیا قاتل بھی مارا گیا مگر قاتل ایسا گم ہوا کہ نہیں معلوم کہ آیا وہ آدمی تھا یا فرشتہ تھا جو آسمان پر چڑھ گیا۔
مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ نشانی الہامی کتاب کی پیش کی کہ اس میں اعلیٰ درجہ کے صفات پرمیشر کے درج ہوں۔ سو ہم اس نشانی کو قبول کرتے ہیں لیکن ہم اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ ویدکے پرمیشر میں یہ نشانیاں موجود ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہیں ایک ذاتی دوسری اضافی۔ ذاتی صفات اُن صفات کا نام ہے کہ جو بغیر حاجت وجود مخلوق کے پائی جاتی ہیں جیسا کہ اُس کی وحدانیت اُس کا علم اُس کا تقدس (۲) اور اضافی صفات ان صفات کا نام ہے جن کا تحقّق اور وجود خارج میں پایا جانا مخلوق کے وجود کے بعد ہوتا ہے جیسے خدا تعالیٰ کی خالقیت۔ رازقیت۔ رحمت اور اس کا توّاب ہونا اور اس کی صفت مکالمہ مخاطبہ۔ سو وید اِن دونوں قسم کی صفات کامنکر ہے۔ کیونکہ بموجب قول آریہ سماج والوں کے خدا اپنے ازلی۔ ابدی ہونے میں واحد لا شریک نہیں ہے بلکہ ذرہ ذرہ مخلوق کا انادی ہونے اور ازلیت اور ابدیت میں اس کے ساتھ برابر ہے اور پرمیشر کی طرح روحوں پر موت نہیں آتی اور ہمیشہ اِس جہان میں واپس آتی ہیں اور کبھی دوسرے جہان میں چلی جاتی ہیں مگر تعجب کہ اگر روحیں فنا کے تغیرات سے محفوظ ہیں جیسا کہ پرمیشر محفوظ ہے اور نیز تمام صفات میں ازلی ابدی ہیں جیسا کہ پرمیشر ازلی ابدی ہے تو پھر کیا وجہ کہ خواب کی حالت میں بھی اُن پر ایسا تغیر آجاتا ہے کہ تمام کارخانہ اُن کی حالت کا اُلٹ پُلٹ ہو جاتا ہے اور وہ جدید نظارے اُن کو پیش آجاتے ہیں کہ جن کا بیداری میں اُن کو کچھ