سرب بیاپک ہے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ وید ہی سب سے کامل او ر مقدس گیان کے پستک ہیں۔ آریہ ورت سے ہی تمام دنیا نے فضیلت سیکھی۔ آریہ لوگ ہی سب کے استاد اوّلؔ ہیں۔ آریہ ورت سے باہر جو بقول مسلمانوں کے ایک لاکھ چوبیس۲۴۰۰۰ ہزار پیغمبر ۵۔۶ ہزار سال سے آئے ہیں اور توریت۔ زبور۔ انجیل۔ قرآن وغیرہ کتب لائے ہیں۔ میں دلی یقین سے ان پُستکوں کو مطالعہ کرنے سے اور سمجھنے سے ۔۔۔ اُن کی تمام مذہبی ہدایتوں کو بناوٹی اور جعلی اصلی الہام کے بدنام کرنے والی تحریریں خیال کرتا ہوں ۔۔۔ ان کی سچائی کی دلیل سوائے طمع یانادانی یا تلوار کے ان کے پاس کوئی نہیں ۔۔۔ اور جس طرح میں اور راستی کے برخلاف باتوں کو غلط سمجھتا ہوں ایسا ہی قرآن اور اُس کے اصولوں اور تعلیموں کو جو وید کے مخالف ہیں اُن کو غلط اور جھوٹا جانتا ہوں (لعنۃ اللہ علی الکاذبین) لیکن میرا دوسرا فریق میرزا غلامِ احمد ہے وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا اور اُس کی سب تعلیموں کو درست اور صحیح سمجھتا ہے ۔اور جس طرح میں قرآن وغیرہ کو پڑھ کر غلط سمجھتا ہوں ایسے ہی وہ اُمّی محض سنسکرت اور ناگری سے محروم مطلق بغیر پڑھنے یا دیکھنے ویدوں کے ویدوں کو غلط سمجھتا ہے*۔ اے پرمیشر ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر۔ کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔
راقم آپ کا ازلی بندہ لیکھرام شرما سبھا سد آریہ سماج پشاور
حال اڈیٹر آریہ گزٹ فیروزپور پنجاب
*حاشیہ ۔ اگر میں نے وید نہیں پڑھے بھلا یہ تو غنیمت ہے کہ لیکھرام نے چاروں وید کنٹھ کر لئے تھے اس جگہ بھی
بجزلعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین کیا کہہ سکتے ہیں ۔ بحث اصولوں پر ہوتی ہے جب کہ آریہ سماج والوں نے اپنے ہاتھ سے وید کے اصول شائع کر دئیے تو ان پر بحث کرنا ہر ایک عقلمند کا حق ہے اور یہ سراسر غلط ہے کہ میں وید نہیں پڑھا میں نے وید کے وہ ترجمے جوملک میں شائع ہوئے اول سے آخر تک دیکھے ہیں پنڈت دیانند کا وید بھاش بھی دیکھا ہے اور عرصہ قریباََ پچیس۲۵ سال سے برابر آریوں سے میرے مباحثات ہوتے رہے ہیں پھر یہ کہنا کہ وید کی مجھے کچھ بھی خبر نہیں کس قدر جھوٹ ہے اور اگر آریہ صاحبوں کے پنڈت اب بھی لیکھرام کو وید کا فاضل تسلیم کر چکے ہیں تو میں وہ سر ٹیفکیٹ دیکھنے کا مشتاق ہوں بلکہ لیکھرام کا رتبہ ذرا بھی اس سے بڑھ کر نہیں جوخدا نے اُس کے لئے فرمایا عجل جسد لہ خوار ۔ منہ