نہیں ہوتی) میں خدا کو راشی یاظالم نہیں جانتا (لفظ مرتشی ہے جس کے معنے ہیں رشوت لینے والا۔ راشی لفظ نہیں ہے لیکھرام کی علمیت کا یہ نمونہ ہے کہ بجائے مرتشی کے راشی لکھتا ہے) اور میں وید کی رُو سے اس بات پر کامل و صحیح یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضرور ایشر کا گیان ہے ان میں ذرا بھی غلطی یا جھوٹ یا کوئی قصہ کہانی نہیں۔ ان کو ہمیشہ ہر نئی دنیا میں پرماتما جگت کی ہدایت عام کے لئے پرکاش کرتا ہے اس سرشٹی کے آغاز میں جب انسانی خلقت شروع ہوئی پرماتما نے ویدوں کو شری اگنی۱۔ شری۲ وایو۔ شری ۳آدت۔ شری۴ انگرہ جیو چار رشیوں کے آتماؤں میں الہام کیا مگر جبرئیل یا کسی اور چٹھی رسان کی معرفت نہیں بلکہخود ہی*کیونکہ وہ آسمان یا عرش پر نہیں بلکہ
*حاشیہ ۔ جسمانی نظام پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہوا کے ذریعہ سے سنتا ہے اور سورج کے
ذریعہ سے دیکھتا ہے پھر جسمانی نظام میں یہ دو چٹھی رساں کیوں مقرر کئے گئے حالانکہ خدا کا جسمانی روحانی قانون باہم مطابق ہونا چاہیئے افسوس وید کا گیان ہر جگہ پر صحیفہ قدرت کے مخالف پڑا ہوا ہے اور کون کہتا ہے کہ خدا ہر جگہ نہیں بلکہ وہ ہر جگہ بھی ہے اور ذوالعرش بھی ہے نادان اس معرفت کے نکتہ کو نہیں سمجھتا ۔ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اگرچہ اس عالم میں سب کچھ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے مگر پھر بھی اس نے اپنے قضا و قدر کے نافذ کرنے کے وسائط رکھے ہیں ۔مثلاََ ایک زہر جو انسان کو ہلاک کرتی ہے اور ایک تریاق جو فائدہ بخشتا ہے کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ یہ دونوں خودبخود انسان کے بدن میں تاثیر کرتے ہیں ؟ ہر گز نہیں بلکہ وہ خدا کے حکم سے تاثیر مخالف یا موافق کرتے ہیں پس وہ بھی خدا کے ایک قسم کے فرشتے ہیں بلکہ ذرہ ذرہ عالم کا جس سے انواع و اقسام کے تغیرات ہوتے رہتے ہیں یہ سب خدا کے فرشتے ہیں اور توحید پوری نہیں ہوتی جب تک ہم ذرہ ذرہ کو خدا کے فرشتے مان نہ لیں کیونکہ اگر ہم تمام مؤثرات کو جو دنیا میں پائی جاتی ہیں خدا کے فرشتے تسلیم نہ کرلیں تو پھر ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ تمام تغیرات انسانی جسم اور تمام عالم میں بغیر خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ اور مرضی کے خودبخود ہو رہے ہیں اور اس صورت میں خدا تعالیٰ کو محض معطل اور بے خبر ماننا پڑے گا ۔ پس فرشتوں پر ایمان لانے کا یہ راز ہے کہ بغیر اس کے توحید قائم نہیں رہ سکتی اور ہر ایک چیز کو اور ہر ایک تاثیر کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے باہر ماننا پڑتا ہے اور فرشتہ کا مفہوم تو یہی ہے کہ فرشتے وہ چیزیں ہیں جو خدا کے حکم سے کام کر رہی ہیں پس جبکہ یہ قانون ضروری اور مسلّم ہے تو پھر جبرئیل اور میکائیل سے کیوں انکار کیا جائے ؟ منہ ۔