مدت تک ہے ) بعد اس کے پرماتما کی نیا کے مطابق پھر جسم انسانی لینا پڑتا ہے محدود کرموں کا بے حد پھل نہیں (کرم تومحدود ہیں مگر وفادار پرستار کی نیّت محدود نہیں ہوتی اور نیز کرم کا محدود ہونا اُس کی مرضی سے نہیں ) میں ویدوں کی ان سب تعلیموں کو دلی یقین سے مانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ پرمیشر گناہوں کو بالکل نہیں بخشتا۔ (عجیب پرمیشر ہے) میرا کسی شفاعت یا سفارش پر بھروسہ نہیں (یعنی کسی کی دُعا کسی کے حق میں قبول بقیہ حاشیہ کراتی ہے اور اس طرح پر اس عورت کا خاوند اس بچہ کا پِتا بن جاتا جو نیوگ کے ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے پس اگر پرمیشر آریوں کا ایسا ہی پِتا ہے تب تو ہمیں کلام کرنے کی گنجائش نہیں لیکن اگر اس طرح کا پِتا ہے کہ ارواح اور ذرات عالم معہ اپنی تمام قوتوں کے اس کے ہاتھ سے نکلے ہیں اور اسی سے وجود پذیر ہیں تو یہ بات آریوں کے اصول کے برخلاف ہے اگر پوچھو کہ کیوں ان کے اصول کے برخلاف ہے ؟ تو ؔ واضح ہو کہ آریوں کے اصول کے مطابق تمام ارواح پرمیشر کی قدیمی شریک ہیں جو اس سے وجود پذیر نہیں ہوئیں تو پھر ہم پرمیشر کو ان کا پِتا کیونکر کہہ سکتے ہیں وہ تو خودبخودہیں جیسے کہ پرمیشر خودبخود مگر یہ اصول غلط ہے۔ معرفت کی آنکھ سے دیکھنے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ جیسا باپ میں قوتیں اور خاصیتیں اور خصلتیں ہوتی ہیں ویسی ہی بیٹے میں بھی ہوتی ہیں ۔ پس اسی طرح چونکہ ارواح خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہیں ان میں ظلّی طور پر وہ رنگ پایا جاتا ہے جو خدا کی ذات میں موجود ہے اور جیسے جیسے خدا کے بندے اس کی محبت اور پرستش کے ذریعہ سے صفوت اور پاکیزگی میں ترقی کرتے ہیں وہ رنگ ظاہر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ظلّی طور پر ایسے انسانوں میں خدا کے انوار ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔ صاف طور پر ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ انسانی فطرت میں خدا کے پاک اخلاق مخفی ہوتے ہیں جو تزکیہ نفس سے ظاہر ہوجاتے ہیں مثلاََ خدا رحیم ہے ایسا ہی انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد رحم کی صفت سے حصہ لیتا ہے ۔ خدا جوّاد ہے ایسا ہی انسان بھی تزکیہ ء نفس کے بعد جود کی صفت سے حصہ لیتاہے ایسا ہی خدا ستار ہے خدا کریم ہے خدا غفور ہے اور انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد ان تمام صفات سے حصہ لیتا ہے پس کس نے یہ صفات فاضلہ انسان کی روح میں رکھ دئے ہیں ۔ اگر خدا نے رکھے ہیں تو اس سے ثابت ہے کہ وہ ارواح کا خالق ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ خودبخود ہیں تو اس کا جواب یہی کافی ہے کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین ۔ منہ