ایک ہی کرتا رہے دوسرا کوئی نہیں۔ میں پرمیشر کی طرح تمام دنیا کا مالک یا صانع نہیں ہوں اور نہ سرب بیاپک ہوں اور نہ انتریامی بلکہ اس مہان شکتی مان کا ایک ادنیٰ سیوک ہوں مگر اُس کے گیان اور شکتی میں ہمیشہ سے ہوں معدوم کبھی نہیں ہوا اور نہ کوئی عدم خانہ کہیں ہے بلکہ کسی چیز کو عدم نہیں۔ اس لئے وید کی اس انصافانہ تعلیم کو بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مکتی یعنی نجات کرموں کے مطابق مہما کلب تک ملتی ہے(یعنی دائمی نجات نہیں صرف ایک مقررہ بقیہ حاشیہ سے جوڑنا اس کو پرمیشر بننے کا حق نہیں بخش دے گابلکہ اس صورت میں تو وہ اس نانبائی کی طرح ہے جس نے آٹا بازار سے لیا اور لکڑی کسی لکڑی فروش سے اور آگ ہمسایہ سے اور پھر روٹی پکائی اور اس صورت میں پرمیشر کے وجود پر کوئی بھی ثبوت نہیں کیونکہ اگر ارواح مع اپنی تمام قوتوں کے قدیم سے خودبخود ہیں تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ ارواح او رپرمانوؤں کا اِتّصال اور اِنْفِصَال بھی قدؔ یم سے خودبخود نہیں جیسا کہ دہریوں کا خیال ہے اس لئے آریہ سماج والے اپنے پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل نہیں پیش کر سکتے اور نہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے ۔ یہ ہے خلاصہ وید کے گیان کا جس پر فخر کیا جاتا ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر دو قسم کے دلائل قائم ہو سکتے ہیں اوّل اس حالت میں دلیل قائم ہوتی ہے کہ جب اس کی ذات کو سر چشمہ تمام فیوض کا مان لیا جائے اور اسی کو ہر ایک ہستی کا پیدا کنندہ تسلیم کر لیا جاوے تو اس صورت میں خواہ ذرات عالم پر نظر کریں یا ارواح پر یا اجسام پر ضروری طور پر ماننا پڑے گا کہ ان تمام مصنوعات کا ایک صانع ہے ۔ دوسرا طریق خدا تعالیٰ کی شناخت کا اس کے تازہ بتازہ نشانات ہیں جو انبیاء اور اولیاء کی معرفت ظاہر ہوتے ہیں ۔ سو آریہ سماج والے ان سے بھی منکر ہیں اس لئے ان کے پاس اپنے پرمیشر کے وجود پر کوئی بھی دلیل نہیں ۔ عجیب بات ہے کہ آریہ لوگ یوں تو بات بات میں اپنے پرمیشر کو پِتا پِتا کر کے پکارتے ہیں جیسا کہ ابھی لیکھرام نے اپنے مضمون مباہلہ میں لکھا ہے مگر معلوم نہیں وہ کس طور کا پِتا ہے کیا اس طور کا پِتا جیسا کہ ایک متبنّٰی ایک اجنبی شخص کو اپنا باپ کہہ دیتا ہے یا ایسا پِتا جو نیوگ کے ذریعہ سے فرضی طور پر بنایا جاتا ہے اور ایک آریہ کی عورت اپنی پاکدامنی کو خاک میں ملا کر دوسرے سے اپنا منہ کالا