قراؔ ر دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا قرار داد ہے جس کی رُو سے خدا تعالیٰ انسان کے برابر ٹھہر جاتا ہے حالانکہ انسان اُس کی کسی صفت میں اُس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ غرض آریوں کے پاس اِس بات کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ کیوں رُوح اور مادّہ کو پرمیشر کی ملکیّت ٹھہراتے ہیں لیکن قرآن شریف نے وید کی طرح بے وجہ اور محض زبردستی کے طور پر اللہ جلّ شانہٗ کو تمام ارواح اور ہر ایک ذرّہ ذرّہ اجسام کا مالک نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کی ایک وجہ بیان کی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3۱۔3۲۔ (ترجمہ) یعنی زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے سب خدا تعالیٰ کی ملکیّت ہے کیونکہ وہ سب چیزیں اُسی نے پیدا کی ہیں اور پھر ہر ایک مخلوق کی طاقت اور کام کی ایک حد مقرر کردی ہے تا محدود چیزیں ایک محدّد پر دلالت کریں جو خدا تعالیٰ ہے سو ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اجسام اپنے اپنے حدود میں مقیّد ہیں اور اس حد سے باہر نہیں ہوسکتے اِسی طرح ارواح بھی مقیّد ہیں اور اپنی مقررہ طاقتوں سے زیادہ کوئی طاقت پیدا نہیں کرسکتے۔ اب پہلے ہم اجسام کے محدود ہونے کے بارہ میں بعض مثالیں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مثلاً چاند ایک مہینہ میں اپنا دورہ ختم کرلیتا ہے یعنی انتیس۲۹ یا تیس۳۰ دن تک مگر سورج تین سو چو۳۶۴سٹھ دن میں اپنے دورہ کو پورا کرتا ہے اور سورج کو یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنے دورہ کو اِس قدر کم کردے جیسا کہ چاند کے دورہ کامقدار ہے اور نہ چاند کی یہ طاقت ہے کہ اس قدر اپنے دورہ کے دن بڑھادے کہ جس قدر سورج کے لئے دن مقرر ہیں اور اگر تمام دنیا اِس بات کے لئے اتفاق بھی کرلے کہ ان دونوں نیرّوں کے دَوروں میں کچھ کمی بیشی کردیں تو یہ ہرگز اُن کے لئے ممکن نہیں ہوگا اور نہ خود سورج اور چاند میں یہ طاقت ہے کہ اپنے اپنے دَوروں میں کچھ تغیر تبدّل کرڈالیں۔
پس وہ ذات جس نے ان ستاروں کو اپنی اپنی حد پر ٹھہرا رکھا ہے یعنی جو اُن کا محدّد اور حد باندھنے والا ہے وہی خدا ہے۔ ایسا ہی انسان کے جسم اور ہاتھی کے جسم