اقرارصحیح بدرستی ہوش و حواس کرکے کہتا ہوں کہ میں نے اوّل سے آخر تک رسالہ سرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اُس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا بلکہ اُن کے بطلان کو بروئے ست دھرم رسالہ ہٰذا میں شائع کیا۔ میرے جی میں مرزا جی کی دلیلوں نے کچھ بھی اثر نہ کیا اور نہ وہ راستی کے متعلق ہیں۔ میں اپنے جگت پتا پرمیشر کو ساکھی جان کر اقرار کرتا ہوں کہ جیسا کہ ہر چہار وید مقدس میں ارشاد ہدایت بنیاد ہے اُس پر میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میری رُوح اور تمام اروا ح کو کبھی نیستی یعنی قطعی ناش نہیں ہے اور نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔ میری رُوح کو کسی نے نیست سے ہست نہیں کیا (یعنی میری رُوح کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں بلکہ خود بخود قدیم سے ہے) بلکہ ہمیشہ سے پرماتما کی انادی قدرت میں رہا اور رہے گا*۔ ایسا ہی میرا جسمی مادہ یعنی پرکرتی یا پرمانو بھی قدیمی یا انادی پرماتما کے قبضہ قدرت میں موجود ہیں کبھی مفقود نہیں ہوں گے اور تمام جگت کا سرجن ہار *حاشیہ۔ یہ کیسا فضول فقرہ ہے کہ ہمیشہ سے پرماتما کی انادی قدرت میں رہا اور رہے گا ظاہر ہے کہ جبکہ ارواح بقول آریہ سماج کے اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ قدیم سے خود بخود ہیں تو پھر ان کو پر میشر کی قدرت کے ساتھ تعلق ہی کیا ہے ان قوتوں کو نہ پر میشر بڑھا سکتا ہے نہ گھٹا سکتا ہے اور نہ ان میں کسی طرح کا تصرف کر سکتا ہے وہ تمام ارواح تو بقول آریوں کے اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پرمیشر ہیں اور ایک ذرہ پرمیشر کا ان پر احسان نہیں پس یاد رہے کہ یہ مقولہ لیکھرام اور اس کے دوسرے ہم مذہبوں کا کہ ارواح پرماتما کی انادی قدرت میں رہتے ہیں اور رہیں گے یہ صرف اپنے غلط مذہب کی پردہ پوشی کے لئے بولا جاتا ہے کیونکہ انسان کا کانشنس اس کو ہر وقت ایسے بیہودہ عقاید پر ملزم کرتا ہے اگر خدا روحوں اور ان کی قوتوں اور ذرات عالم اور ان کی قوتوں کا پیدا کرنے والا نہیں تو پھر وہ ان کا خدا بھی نہیں ہو سکتا اور یہ کہنا کہ اگرچہ ہم ارواح کو ان کے تجرد کی حالت میں خدا کے بندے اور مخلوق نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس نے ان کو نہیں بنایا لیکن جب پرمیشر ارواح کو اجسام میں ڈالتا ہے تو اس قدر اپنی کارروائی سے ان کا پرمیشر بن جاتا ہے یہ خیال بھی غلط ہے کیونکہ جس پرمیشر نے ارواح اور پرمانو کو معہ ان کی تمام قوتوں کے پیدا نہیں کیا کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہو سکتی ہے کہ وہ ان کے جوڑنے پر قادر ہے اور محض بعض کا بعض