تھی کہ خدا سے ڈرے او رراہِ راست کو انصاف کے ساتھ دیکھے اور اُس کی شوخی حد سے بڑھ گئی تھی اور بجز ٹھٹھے اور ہنسی اور گالی کے کوئی اس کا شیوہ نہ تھا آخر میں نے اُس کو مباہلہ کے لئے بلایا یعنی اس بات کے لئے کہ وہ بجائے خود اور میں بجائے خود دعا کروں کہ خدا جھوٹے کو ہلاک کرے اور اس طر ح پر مجھ میں اور اس میں فیصلہ کردے۔ پس بد دعا کے وقت مجھ کو خدانے اس کی نسبت بشارت دے دی کہ وہ چھ۶ برس کے اندر قتل کے ذریعہ سے جو اناں مرگ مرے گا اور عید کے بعد جو دن آتا ہے اس میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔ ایسا ہی لیکھرام نے میرے مقابل پر اپنا مباہلہ چھپوا دیا یعنی یہ دُعا کہ سچے کے حق میں خدا فیصلہ کرے او ر جھوٹے پر اپنا قہر نازل کرے یہ دُعا اُس نے اپنی کتاؔ ب میں ابوجہل کی طرح بڑے درد دل سے لکھی ہے اور خدا سے فیصلہ چاہا ہے پس خدا نے اُس کے قتل کئے جانے سے یہ فیصلہ کردیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں جھوٹا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت پوتّر اور پاک اور صادق ہیں او رنیز یہ کہ موجودہ ویدوں کی تعلیم صحیح نہیں ہے پھر نہ معلوم کہ اس خدائی فیصلہ کے بعد مضمون پڑھنے والے نے دوبارہ اعتراض کیوں پیش کردیا کیا اس کو خدائی فیصلہ سے تسلی نہ ہوئی اور اگرچہ ہم لیکھرام کا یہ مباہلہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں درج کرچکے ہیں مگر پھر بھی آریہ صاحبوں کی خاطر سے اس جگہ بھی درج کردیتے ہیں اور ہم اُن کو متنبہ کرتے ہیں کہ پوتر اور پاک کی یہ نشانی ہے جو خدا کی گواہی سے اُس کا پاک ہونا ثابت ہو نہ صرف دعویٰ۔ جیسا کہ وید کے رشیوں کے بارے میں کیا جاتا ہے بھلا بتلاؤ کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے؟ کہ وید کے رشی پوتر تھے کو نسی خدا نے گواہی اُن کے پوتر ہونے کے بارے میں دی ہے اُن کی گندی تعلیمیں نیوگ وغیرہ صاف بتلا رہی ہیں کہ انہوں نے پاک راہ کی طرف ہدایت نہیں کی پھر وہ آپ کیونکر پاک او ر پوتر ٹھہر سکتے ہیں۔ اب ہم ذیل میں لیکھرام کا مباہلہ درج کرتے ہیں۔ مضمون مباہلہ میں نیاز التیام لیکھرام ولد پنڈت تارا سنگھ صاحب شرما مصنف تکذیب براہین احمدیہ و رسالہ ہٰذا