نہیں ہوگا وہ اُن کے لئے بڑے بڑے کام دکھاتا ہے اور اُن کی عزت کو تمام دنیا میں شہرت دیتا ہے نادان دشمن چاہتا ہے کہ وہ معدوم ہو جائیں اُن کا نام و نشان نہ رہے وہ ذلیل اور بدنام ہو جائیں اور اُن کی زندگی ناپاک اور ملوث ثابت ہو اور ہزاروں تہمتوں کا انبار لوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے مگر وہ جو اُن کے دل کو دیکھتا ہے اور اُن کے پاک تعلق پر اطلاع رکھتا ہے وہ اس شریر دشمن کے مقابل پر آپ کھڑا ہو جاتا ہے اور اُس کی غیرت اپنے اُس پیارے کے لئے جوش مارتی ہے تب وہ لاکھوں تہمتوں کو ایک ہی کرشمہء قدرت سے کالعدم کر دیتا ہے۔
اور اگر کہو کہ ابوجہل کے مارے جانے کا معاملہ دور دراز کا معاملہ ہے جس پر تیرہ۱۳۰۰ سو برس گذؔ ر گئے ہم کیونکر یقینی طور پر سمجھ لیں کہ ابوجہل نے درحقیقت ایسی بد دعا مباہلہ کے رنگ میں کی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اُسی دن وہ خود ہی قتل کیا گیا تھا شاید یہ قصہ ہی غلط ہو جو مسلمانوں نے آپ بنا لیا ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت یہ قصہ صحیح ہے اور بہت پرانی کتابوں میں اس کا تذکرہ ہے اور کسی مخالف نے اس سے انکار نہیں کیا اور بہت سے طریقوں سے یہ قصہ ثابت ہے یہاں تک کہ لسان العرب میں بھی جو اسلام کی ایک پرانے زمانہ کی لُغت کی کتاب ہے اس میں بھی یہ قصہ لکھا ہے پھر ایسی متواترات سے کیونکر انکار ہو سکتا ہے؟۔
اور اگر کسی نادان دشمن کی اب بھی تسلّی نہ ہو تو ہم ایک تازہ ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پوتر اور پاک ہونے کا لکھتے ہیں جس پر لیکھرام آریہ نے اپنے مارے جانے سے مہر لگادی ہے واضح ہو کہ مضمون پڑھنے والے نے جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے ہیں وہ صرف آنکھیں بند کرکے لیکھرام کی کتابوں میں سے لکھے ہیں اور یہ لیکھرام کا ہی دعویٰ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پوتّر اور پاک نہیں تھی۔ اور اُس کے نزدیک ویدوں کے رشیوں کی زندگی پاک تھی۔ اسی نفسانی خیال کی وجہ سے وہ قادیان میں آیا میں نے اُس کو سمجھایا کہ خدا کے پاک نبی پر حملہ کرنا اچھا نہیں مگر وہ خدا کی عظمت اور قدرت کا منکر تھا اس کو اس بات کی کچھ بھی پروا نہیں