پوتّر اورؔ پاک نہیں ہے۔ تبھی تو اس نے دردِ دل سے دُعا کی لیکن اس دُعا کے بعد شاید ایک گھنٹہ بھی زندہ نہ رہ سکا اور خدا کے قہر نے اسی مقام میں اس کا سرکاٹ کر پھینک دیا اور جن کی پاک زندگی پر وہ داغ لگاتا تھا وہ اس میدان سے فتح اور نصرت کے ساتھ واپس آئے *پس کسی بدذات دہریہ کا یہ کام ہے کہ باوجودیکہ خود خدا نے اس نبی کی پوتّر اور پاک زندگی پر شہادت دی مگر پھر بھی وہ خدا کی گواہی کو قبول نہ کرے یہ بات ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ انسان کی پاکی یا پلیدی ہزاروں پر دوں کے اندر ہوتی ہے اور اس کوکوئی نہیں جانتا مگر محض خدا اور جیسا کہ ایک ناپاک طبع آدمی اپنی ناپاکی کو پوشیدہ رکھتا ہے تا ایسا نہ ہو کہ کوئی اُس پر اطلاع پاوے ایسا ہی وہ آدمی جو پاک سرشت ہے اور خدا کے ساتھ ایک گہرا تعلق رکھتا ہے وہ اپنے ان مخفی تعلقات کو ظاہر نہیں کرتا جو خدا کے ساتھ ہیں اور ایسا چھپاتا ہے جیسا کہ گنہگار اپنے گنہ کو اور اگر کوئی ا س کے ان پوشیدہ اسرار پر اطلاع پائے جوخدا کے ساتھ وہ رکھتا ہے تووہ ایسا شرمندہ ہوتا ہے کہ جیسا کہ ایک بدکار عین بدکاری میں پکڑا جائے خالص محبت الٰہی اور خالص عشق الٰہی اخفاء کو چاہتا ہے اس لئے پاک لوگوں کے اندرونی اسرار پر کوئی واقف نہیں ہوسکتا۔ ہاں خدا نہیں چاہتا کہ وہ مخفی رہیں اور وہ اپنے دوستوں کے لئے اس قدر غیر ت مند ہے کہ کوئی دنیا میں ایسا غیرتمند
*حاشیہ ۔ اسی پاک زندگی کے ثبوت کے لئے ایک اور تاریخی واقعہ ہے جو مسلمانوں کی کتابوں میں متواترات سے ہے اور وہ یہ کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے بادشاہوں کی طرف خط لکھے کہ میں خدا کا رسول ہوں تم مجھ پر ایمان لاؤ تو منجملہ ان بادشاہوں کے خسرو پرویز بھی تھا جو اپنے تئیں عجم اور عرب کا بادشاہ سمجھتا تھا وہ اس خط کو سن کر بہت ناراض ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کاذب خیال کر کے گرفتاری کا حکم دیا کیونکہ عرب کا ملک بھی اس کی حکومت کے متعلق تھا جو یمن کے صوبہ کے ماتحت تھا جب اس کے سپاہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کے لئے آئے تو آپ نے فرمایا کہ کل صبح جواب دوں گا ۔ جب وہ صبح کے وقت حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تم کس کے پاس مجھے لے جانا چاہتے ہو آج رات میرے خداوند نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے اور قتل کے لئے اسی کے بیٹے کو اس پر مسلّط کیا ۔ پس پاک زندگی اس کو کہتے ہیں جس کے لئے خدا دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے کیا وید کے رشیوں میں اس کا کوئی نمونہ ہے ۔ منہ