یعنی پاک ہو۔ اس سے اس کایہ مطلب تھا کہ نعوذ باللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ؔ زندگی پوتر نہیں تھی جیسا کہ آگے چل کر اُس نے اپنے اس دلی گند کو کھلے کھلے طور پر ظاہر کردیا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ کسی کی پاک اورپوتر زندگی کو کوئی نہیں جانتا مگر خدا جو عالم الغیب ہے جن لوگوں نے خدا کے پاک نبیوں کو مفتری اور شریر قرار دیا اور طرح طرح کے گناہوں سے اُن کو آلودہ سمجھا وہ اُس دن تک اپنی غلطیوں کو سچ سمجھتے رہے جب تک کہ خدا کے ہاتھ نے اُن کو ہلاک نہ کیا۔ موسیٰ نبی کے زمانہ میں فرعون کے دل میں یہی خیال سما گیا تھا کہ موسیٰ جھوٹا اور مفتری ہے آخر خدا نے اس کو مع اس کی فوج کے دریا ئے نیل میں غرق کرکے یہ ثابت کردیا کہ فرعون جھوٹا اور موسیٰ سچا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو جھوٹا قرار دیا اور ناپاک تہمتیں اُن پر اور اُن کی ماں پر لگائیں آخر خدا نے اُن کے منصوبوں سے حضرت عیسیٰ کو بچا لیا اور اُن کو انواع و اقسام کے عذاب سے ہلاک کیا۔ اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور اس زمانہ کے شریر اور حرامکار لوگ آنجناب کے دشمن ہوگئے اور مفتری اور کذاب سمجھنے لگے یہاں تک کہ بدر کی لڑائی کے وقت میں ایک شخص مسمّی عمرو بن ہشّام نے جس کا نام پیچھے سے ابوجہل مشہور ہوا جو کفار قریش کا سردار اور سرغنہ تھا ان الفاظ سے دُعا کی کہ اللّٰھُمَّ مَنْ کان منّا افسدَ فی القوم واقطعَ للرّحم فاحنہ الیوم یعنی اے خدا جو شخص ہم دونوں میں سے (اس لفظ سے مراد اپنے نفس اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لیا) تیری نگہ میں ایک مفسد آدمی ہے اور قوم میں پھوٹ ڈال رہا ہے اور باہمی تعلقات اور حقوق قومی کو کاٹ کر قطع رحم کا موجب ہو رہا ہے آج اُس کو تُو ہلاک کردے اور ان کلمات سے ابوجہل کا یہ منشاء تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مفسد آدمی ہیں اور قوم میں پھوٹ ڈال کر ناحق قریش کے مذہب میں ایک تفرقہ پیدا کر رہے ہیں اور نیز انہوں نے تمام حقوق قومی تلف کر دئیے ہیں اور قطع رحم کا موجب ہوگئے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ابوجہل کو یہی یقین تھا کہ گویا نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی