ہے اور صفات اضافیہ یہ کہ اُس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے تا اپنی خالقیت ثابت کرے اور اس نے بغیر کسی کے عمل کے زمین و آسمان کی ہزاؔ روں نعمتیں انسانوں کے لئے مہیا کی ہیں تا اپنی رازقیت ثابت کرے اور وہ اسی دنیا میں عبادت اورمجاہدہ کرنے والوں کو ایک خاص عزت بخشتا اور خاص تائید کے ساتھ اُن میں اور اُن کے غیروں میں فرق کرکے دکھلا دیتا ہے اوراپنے قرب اور مکالمہ مخاطبہ کا شرف اُن کو بخشتا ہے تا اپنی رحیمیت ثابت کرے اور قیامت کو ہر ایک فرمانبردار اورنافرمان کو اپنی مرضی کے موافق جزاوسزا دے گا تا اپنا مالک جزا و سزا ہونا ثابت کرے۔ یہ ہیں دونوں قسم عبادت کے جو اصل حقیقت پرستش ہے اور ظاہر ہے کہ وید دونوں قسموں کا مخالف اورمنکر ہے چنانچہ اس کے نزدیک توبہ کرنا محض فضول اور بے فائدہ ہے اور استغفار سراسر بے سُود اور بیکار ہے ایسا ہی دوسری قسم کی عبادت کا حال ہے کیونکہ بموجب آریہ سماج کے اصول کے اُن کا پرمیشر اپنی ازلیت ابدیت میں واحد لاشریک نہیں اور اس صفت میں تمام رُوحیں اُس کی شریک ہیں اور نیز وہ پیدا کرنے والا ارواح و ذراتِ عالم کا نہیں اور اس میں نہ رحمانیت کی صفت ہے اور نہ رحیمیت کی صفت۔ اور نہ وہ مالکوں کی طرح
جزا سزا دینے پر قادر ہے لہٰذا وہ کسی قسم کی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور نہ کوئی اس میں خوبی ہے ایسا ہی وید نے خدا کی معرفت کا کوئی طریقہ نہیں بتلایا اور وید کی رُو سے ثابت نہیں ہوتا کہ پرمیشر موجود بھی ہے کیونکہ جب کہ وہ پیدا کرنے والا ہی نہیں توکس دلیل سے اُس کا موجود ہونا شناخت کیا جاوے غرض وید کے ذریعہ سے نہ خداتعالیٰ کی شناخت ممکن ہے اور نہ عبادت ہوسکتی ہے پھرنہ معلوم کہ وید کو سرچشمہ علوم کن معنوں سے کہتے ہیں اور اس کی تعلیم کو عالمگیر کیوں کہا جاتا ہے شاید ان معنوں سے کہتے ہوں کہ چونکہ وید آگ اور پانی اور چاند اور سورج اور دوسرے عناصر کی پرستش کی تعلیم دیتا ہے اور یہ چیز یں ہر ایک حصہ ملک میں بکثرت پائی جاتی ہیں اور عالمگیر ہیں اس لئے ماننا پڑا کہ وید کی تعلیم عالم گیر ہے۔
پھر مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ شرط بھی پیش کی کہ ملہمین کی زندگی پوتّر ہو