جیسے زنبور اور دوسرے حشرات الارض سخت سردی کے ایام میں مر جاتے ہیں اور زمین میں یا دیواروں کے سوراخوں میں چمٹے رہتے ہیں اور جب گرمی کا موسم آتا ہے تو پھر زندہ ہو جاتے ہیں ان اسرار کو بجز خدا تعالیٰ کے کون سمجھ سکتا ہے؟ ایسا ہی بعض نباتی او ر معدنی چیزؔ یں علیحدہ علیحدہ ہونے کی حالت میں توایک خاصیت نہیں رکھتیں مگر ترکیب کے بعد ان میں ایک نئی خاصیت پیدا ہو جاتی ہے مثلاً شورہ اور گندھک اورکوئلہ ایک خاص ترکیب سے بارود بن جاتا ہے اور اگر چاہیں کہ صرف شورہ یا صرف گندھک یا صرف کوئلہ سے بارود بنایا جائے تو یہ غیر ممکن ہوتا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ترکیب سے ایک نئی چیز پیدا ہوسکتی ہے اور شاید اسی بنا پر کیمیا کے طالب سونا اور چاندی بنانے کے سودا میں لگے رہتے ہیں مگر کوئی کیمیا ایسی نہیں جیسا کہ خدا کی محبت اور خدا کی طرف ایسا جھکناجیسا کہ شیرخوار بچہ اپنی ماں کی طرف جھکتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ تمام دنیا پر نظر ڈال کر ہر ایک طرف سے گواہی ملتی ہے کہ نیست سے ہست ہوتا ہے پس اسی طرح خدا مرد اور عورت کے نطفہ سے رُوح کو پیدا کر دیتا ہے سچا فلسفہ یہی ہے اور سچا علم یہی ہے جس پر ہزارہا تجارب گواہی دے رہے ہیں۔ پس وید جو اس کے مخالف تعلیم دیتا ہے اسی بات سے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ سرچشمہ علوم ہرگز نہیں ہے بلکہ گمراہیوں اور غلطیوں کا سرچشمہ ہے۔ عجیب بات ہے کہ وید نے ہر ایک پہلو سے راہ راست کو چھوڑ دیا ہے چنانچہ ظاہر ہے کہ خدائے عزّوجلّ کی عبادت دو۲ قسم کی ہے۔ (۱) ایک توبہ و استغفار یعنی اس کے آستانہ پر جھک کر اپنے گناہوں کا اقرار کرنا اور نہایت تذلّل اور انکسار اور فنا کی حالت بناکر اس سے اپنے گناہوں کی معافی چاہنا اور طہارت و تقویٰ کے حصول کے لئے اس کی مدد کی درخواست کرنا اور سچے دل سے اس کی جناب میں عہد کرنا کہ پھر ایسا گناہ نہ کریں گے (۲) دوسری قسم کی عبادت یہ ہے کہ اُس کی تمام خوبیوں اور کمالات کا ذکر کرکے اس کو یاد کرنا اور اس کی صفات ذاتیہ اور اضافیہ کا اقرار کرکے اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہنا۔ صفاتِ ذاتیہ یہ کہ وہ اپنے کمال ذات اور ابدیت اور ازلیت اور تمام قدرتوں اور طاقتوں اور علم میں واحد لاشریک