پر باقی نہ رہتا۔ پس خدا کی اسی قدرت نے جو نیست سے ہست کرنا ہے تمام دنیا کو بچا رکھا ہے انسان کی سخت بدذاتی ہے جو اس کو اپنی قدرت نمائی میں عاجز سمجھے اور اس کو نیست سے ہست کرنے پر قادر خیال نہ کرے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ایجادیں بھی بعض ایسے کام دکھاتی ہیں کہ گویا نیست سے ہست کرتی ہیں مثلاً فونو گراف میں جو آواز بند کی جاتی ہے اوروہ اُس انسان کے ٹھیک ٹھیک لہجہ پرجس کی آواز بند کی گئیؔ ہے نکلتی ہے کیا اس ایجاد سے پہلے کسی کو سمجھ آسکتا تھا کہ آوازمیں یہ بھی خاصیت ہے کہ وہ خاص قسم کے ظروف میں بند ہوسکتی ہے اور پھر اصل آواز کی طرح پیدا ہوکر سنائی دیتی ہے اور سالہا سال اور مدتہائے دراز تک بند رہ سکتی ہے اور پھر جب اُس آواز کا سنانا منظور ہو تو ایسے طور سے نکلتی ہے کہ گویا وہ انسان جس کی آواز بند کی گئی ہے بول رہا ہے کیا یہ نیست سے ہست نہیں اگر اس طبعی راز کا کسی کو علم نہ ہو تو وہ ایسی آواز سے ڈرے گا اور خیال کرے گا کہ شاید اس میں کوئی جن بول رہا ہے۔
اسی طرح اس زمانہ میں ہزارہا سائنس کے اسرار کا پردہ کھلتا جاتا ہے جو کسی زمانہ میں نیست کے طور پر سمجھے جاتے تھے اور وہ عمیق در عمیق علم طبعی کے خواص نئی ایجادوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتے جاتے ہیں کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ پھر تعجب آتا ہے کہ ایسے زمانہ میں وہ نادان بھی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے اسرار قدرت پراعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روح نیست سے کیونکر ہست ہوجاتی ہے اور دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں ہزاروں چیزیں نیست سے ہست ہو رہی ہیں مثلاً ایک دھات جو بالکل نیست ہو جاتی ہے اور مر جاتی ہے وہ شہد اور سہاگہ اور گھی میں جوش دینے سے پھر زندہ ہو جاتی ہے کسی نے پنجابی میں کہا ہے شہد سہاگہ گھی۔ موئی دھات دا ایہو جی یعنی شہد سہاگہ اور گھی جو ہے مری ہوئی دھات کی یہی جا ن ہے۔ اور اسرار قدرت الٰہی میں سے ایک یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ایک گلہری کو پتھر یا سوٹے سے مارا جائے اور وہ بظاہر بالکل مر جائے مگر ابھی تازہ ہو تو اگر اس کے سر کو گوبر میں دبا یا جائے تو چند منٹ میں و ہ زندہ ہو کر بھاگ جاتی ہے مکھی بھی اگر پانی میں مرجائے تو وہ بھی زندہ ہوکر پرواز کرجاتی ہے اور بعض جانور