زمین میں بویاجاوے تو اس سے ایک بڑا درخت آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے اور بہت سی شاخیں نکالتا ہے اور پھول لاتا ہے اورآخر ہزاروں آم اُس پر لگتے ہیں کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ یہ کیاماجرا ہے آم جو بویا گیا وہ تو صرف ایک تھا پس یہ انبار لکڑیوں اور پتوں اور پھولوں کا کہاں سے پیدا ہوگیا۔ کیا اگر یہ نیستی سے ہستی نہیں تو اورکیا ہے؟ پس سچ تو یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اناج اور پھلوں کے پیدا کرنے میں نیستی سے ہستی نہ کرتا اور ایک دانہ کے عوض میں صر ف ایک دانہ پیدا ہوتا تو تھوڑے ہی دنوں میں سب لوگ مر جاتے۔ عقلی طور پر تو صرف یہ ماننا پڑتا ہے کہ ایک دانہ کی جگہ صرف ایک ہی دانہ پیدا ہو باقی جوکچھ خدا تعالیٰ پیدا کرکے دکھاتا ہے وہ سب عقل سے برتر اور نیستی سے ہستی ہے مگر افسوس ان کافر نعمت لوگوں پر جو ہمیشہ نیستی سے ہستی دیکھتے ہیں اور وہی اناج اور پھل جو نیست سے ہست ہوتے ہیں ان کو کھاکر وہ زندہ رہتے ہیں لیکن پھر وہ سب کچھ دیکھ کر بھی خدا کی قدرتوں سے منکر ہو جاتے ہیں اور اعتراض شروع کردیتے ہیں کہ خدا نیست سے کیونکر ہست کر دیتا ہے اورمنہ سے کہتے ہیں کہ خدا سرب شکتی مان اور قادر ہے مگر دراصل وہ اُس کو قادر نہیں سمجھتے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب تک خدا اپنی قدرتیں نہ دکھلا وے اس کا قادر ہوناکیونکر ثابت ہو اور اگر انسانی قدرت کی حد تک ہی اُس کی قدرتیں ہوں تو اس میں اور انسان میں فرق کیا ہوا؟ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ ایک جگہ مثال کے طور پر فرماتا ہے۔
3 ۱ ۔س بقرہ
یعنی خدا کی راہ میں جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں اُن کے مالوں میں خدا اس طرح برکت دیتا ہے کہ جیسے ایک دانہ جب بویاجاتاہے تو گو وہ ایک ہی ہوتا ہے مگرخدا اس میں سے سا۷ت خوشے نکال سکتا ہے اور ہرایک خوشہ میں سو۱۰۰ دانے پیدا کرسکتا ہے یعنی اصل چیز سے زیادہ کر دینا یہ خدا کی قدرت میں داخل ہے اور درحقیقت ہم تمام لوگ خدا کی اسی قدرت سے ہی زندہ ہیں اور اگرخداپنی اپنی طرف سے کسی چیز کوزیادہ کرنے پر قادر نہ ہوتا تو تمام دنیا ہلاک ہو جاتی اور ایک جاندار بھی روئے زمین