نے ہمیں سکھایا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ انسان سے پہلے کیاکیاخدا نے بنایا۔ مگراس قدر ہم جانتے ہیں کہ خدا کے تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہوئے* اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کرکے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضروری ہے مگر قدامت شخصی ضروری نہیں۔ آرؔ یوں کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ خدا کی بے انتہا قدرتوں اور بے انتہا اسرار کو اپنے نہایت محدود علم کے پیمانہ سے ناپتے ہیں اور جو باتیں انسان کے لئے غیر ممکن ہیں وہ خدا کے نزدیک بھی غیرممکن ٹھہراتے ہیں۔ اسی بِنا پر اُن کااعتراض ہے کہ روحیں کہاں سے پیدا ہوئیں اور مادہ کہاں سے پیداہوا۔ تعجب کہ وہ پہلے کیوں اس سوال کو حل نہیں کرتے کہ خدا کہاں سے اور کس طرح پیدا ہوا۔ جب کہ اس بات کو ماننا پڑتا ہے کہ خدا کی قدرتیں ناپیدا کنار ہیں اور اس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور ہمارے مشاہدات اس کے گواہ ہیں تو پھر یہ بیہودہ منطق خدا تعالیٰ کی قدرت کی نسبت کیوں استعمال کی جاتی ہے۔ جس حالت میں دُنیا کے لو گ بھی اپنی عجیب درعجیب ایجادوں کے ساتھ لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں اور ایسے عمیق اسرار سائنس کے نکلتے آتے ہیں کہ ہزاروں فلاسفر اس زمانہ سے پہلے ایسے گذر گئے ہیں کہ ان خواص کو از قبیل محالات سمجھتے تھے تو پھر خدا تعالیٰ کے عمیق اسرار پر کیوں اعتراض کئے جاتے ہیں؟ جو کچھ ہمارے مشاہدہ میں ہر روز آتا ہے کیا ہم اپنے عقلی ہتھیاروں کے ذریعہ اس کی تہ تک پہنچ سکتے ہیں؟ زمین میں مثلاً ایک کنک کا دانہ بویاجاتاہے پھر اس میں سے سبزہ نکلتا ہے اور ٹہنیاں پیدا ہوتی ہیں اورخوشہ لگتا ہے اور ایک دانہ سے کئی دانہ ہوجاتے ہیں کیا کوئی سمجھ سکتاہے کہ اتنی چیزیں صرف ایک دانہ سے کیونکر پیدا ہو جاتی ہیں اگر صرف ہست سے ہست ماناجائے توایک دانہ کے عوض میں صرف بقدر ایک دانہ پیدا ہوناچاہئے باقی سب نیست سے ہست قبول کرنے پڑتے ہیں۔ ایسا ہی اگر آم کاایک پھل * ہم نے ہمیشہ کے لئے اس لئے شرط لگا دی ہے کہ خدا کی صفات میں سے ایک وحدت بھی ہے کیونکہ اس کی ذات کے لئے کسی دوسری چیز کا وجود ضروری نہیں اس لئے وہ بھی زمانہ آئے گا کہ خدا کل نقش موجودات کا مٹا دے گا تاا پنی وحدت کی صفت کو ثابت کرے اور ایسا ہی پہلے بھی زمانہ آچکا ہے ۔ منہ