حصہؔ اوّل اُس بیانِ دروغ کے ردّ میں جو وید کی حمایت میں اور اُس کی خوبیوں کے اظہار کی غرض سے کیا گیا ہے۔ مضمون کے سنانے والے نے وید کے حوالہ سے اپنے مضمون میں بڑے زور سے بیان کیا کہ پرمیشر روح اور مادّہ کا مالک ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تو سچ ہے کہ وہ صانع عالم جان اور اجسام کے ہر ایک ذرّہ کا مالک ہے مگر آریہ صاحبوں کے اصول کی رُو سے وہ مالک نہیں ٹھہرتا کیونکہ پرمیشر نے نہ ارواح کو پیدا کیا اور نہ ذرّاتِ عالم کو بلکہ وہ یعنی رُوح اور مادّہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ پرمیشر کی طرح قدیم اورانادی اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں۔ تو پھر کیونکر پرمیشر اُن کا مالک ٹھہر سکتاہے جن پر اُن کا کوئی بھی حق نہیں۔ کیا پرمیشر نے رُوحوں اور ذرّاتِ عالم کو اپنے پاس سے قیمت دے کر کسی سے خریدا تھا۔ کیونکہ وہ اُن کاخالق تو نہیں۔ پس کوئی اور وجہ بیان کرنی چاہیئے جس کی وجہ سے وہ ایسی چیزوں کا جو اُس کی طرح قدیم اور خود بخود ہیں مالک سمجھا جاوے کیونکہ بلاوجہ تو ہم کسی کی نسبت نہیں کہہ سکتے کہ وہ فلاں چیز کا مالک ہے اگر کہو کہ ملکیّت پُرانے قبضہ سے بھی پیدا ہوسکتی ہے جیسا کہ قانون انگریزی کا اصول ہے۔ اور کبھی ملکیّت اِس طرح بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ ایک سلطنت دوسری سلطنت سے جنگ کرکے اُس پر غالب آجاتی ہے۔ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ کیاخدا کی ملکیّت کا مفہوم انسانی ملکیّت کے مفہوم سے برابر ہے۔ ظاہر ہے کہ چونکہ انسان ناقص ہے اس لئے انسان اُن تمام چیزوں کو جو اپنی ملکیّت ٹھہراتا ہے وہ لفظ ملکیّت بھی ناقص معنوں میں ہی لیا جاتا ہے مگر کسی چیز کو خدا تعالیٰ کی ملکیّت اُن معنوں کے رُو سے قرار دینا جن معنوں سے انسان کی ملکیّت