ایک حیات ہے ایسا ہی جسم کی طرح روح پر بھی تغیرات وارد ہو تے رہتے ہیں اور اس پر بھی ہر آن ایک موت اور ایک حیات ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ جسم کے تغیرات ظاہر اور کھلے کھلے ہیں مگر جیسا کہ رُوح مخفی ہے ایسا ہی اس کے تغیرات بھی مخفی ہیں اور رُوح کے تغیرات غیر متناہی ہیں جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ رُوح کے تغیرات غیرمحدود ہیںیہاں تک کہ بہشت میں بھی وہ تغیرات ہوں گے مگر وہ تغیرات روبہ ترقی ہوں گے اور رُوحیں اپنی روحانی صفات میں آگے سے آگے بڑھتی جائیں گی اور پہلی حالت سے دوسری حالت ایسی دُور اور بلند تر ہو جائے گی گویا پہلی حالت بہ نسبت دوسری حالت کے موت کے مشابہ ہوگی۔ آریہ مذہب کے لوگ یہ بھی رُوحوں کے انادی ہونے پر ایک دلیل پیش کرتے ہیں کہ پرمیشر قدیم ہے اور اس کی صفات بھی قدیم ہیں اور روحوں کے حادث ماننے سے پرمیشر کے صفات کا بھی حادث ہونا لازم آتا ہے اس لئے ماننا پڑا کہ رُوحیں حادث نہیں ہیں۔ مگر معلوم نہیں کہ یہ لوگ کس قدر جہالت میں غرق ہیں کہ منہ سے تو کچھ نکلتا ہے اور عقیدہ کچھ اور ہوتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں رُوحیں اُن کے نزدیک پرمیشر کی پیدا کردہ نہیں اور قدیم سے خود بخود اور پرمیشر کی طرح ازلی اورانادی ہیں اور پرمیشر کاہاتھ اُن کو چھو بھی نہیں گیا تو پھر پرمیشر کی صفات سے اُن کو کیا تعلق ہے اور اُن کو قدیم ماننے سے پرمیشر کی کونسی صفت ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ پرمیشر سے بالکل بے تعلق ہیں*۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ خدا کی صفات خالقیت رازقیت وغیرہ سب قدیم ہیں حادث نہیں ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی صفات قدیمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے نہ شخصی طورپر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتاچلا آیا ہے۔ سو اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف *حاشیہ۔ بعض صفات باری کی نسبت اضافی حد وث مانا جاتا ہے جیسا کہ جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو خدا کا علم جو واقع کے مطابق ہونا چاہیئے وہ یہ ہے کہ وہ پیٹ میں ہے اور جب بچہ پیدا ہو کر اپنی حالت میں ایک تغیر پیدا کرتا ہے تو خدا کے علم میں بھی وہ تغیر آجاتا ہے مگر باوصف اس کے خدا کی سب صفات قدیم ہیں ۔ منہ