اپنے نفس کو شناخت کرلیا اُس نے اپنے رب کو شناخت کرلیا۔ پھر ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے 3 ۱؂ یعنی میں نے رُوحوں کو پوچھا کہ کیا میں تمہارا پیدا کرنے والا نہیں تو تمام روحوں نے یہی جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ اس آیت کامطلب یہ ہے کہ روحوں کی فطرت میں یہی منقش اور مرکوز ہے کہ وہ اپنے پیدا کنندہ کی قائل ہیں اور پھر بعض انسان غفلت کی تاریکی میں پڑکر اور پلید تعلیموں سے متاثر ہوکر کوئی دہریہ بن جاتاہے اور کوئی آریہ اور اپنی فطرت کے مخالف اپنے پیدا کنندہ سے انکار کرنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے باپ اور ماں کی محبت رکھتا ہے یہاں تک کہ بعض بچے ماں کے مرنے کے بعد مر جاتے ہیں پھر اگر انساؔ نی رُوحیں خدا کے ہاتھ سے نہیں نکلیں اور اس کی پیدا کردہ نہیں تو خدا کی محبت کا نمک کس نے اُن کی فطرت پر چھڑک دیا ہے اور کیوں انسان جب اُس کی آنکھ کھلتی ہے اور پردۂ غفلت دُور ہوتا ہے تو دل اُس کا خدا کی طرف کھینچا جاتا ہے اور محبت الٰہی کا دریا اس کے صحن سینہ میں بہنے لگتا ہے آخر ان روحوں کاخدا سے کوئی رشتہ توہوتا ہے جواُن کو محبت الٰہی میں دیوانہ کی طرح بنا دیتاہے وہ خدا کی محبت میں ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ تمام چیزیں اس کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ وہ عجیب تعلق ہے ایسا تعلق نہ ماں کا ہوتاہے نہ باپ کا۔ پس اگر بقول آریوں کے رُوحیں خود بخود ہیں تو یہ تعلق کیوں پیدا ہوگیا اور کس نے یہ محبت اور عشق کی قوتیں خدا تعالیٰ کے ساتھ روحوں میں رکھ دیں یہ مقام سوچنے کا مقام ہے اور یہی مقام ایک سچی معرفت کی کنجی ہے۔ یہ بھی طبعی تحقیقاتوں سے ثابت ہے کہ تین۳ سال تک انسان کا پہلا جسم تحلیل پاجاتا ہے اور اس کے قائم مقام دوسرا جسم پیدا ہو جاتا ہے اور یہ یقینی امر ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ جب انسان کسی بیماری کی وجہ سے نہایت درجہ لاغر ہو جاتا ہے یہاں تک کہ مشت اِستخوان رہ جاتا ہے تو صحت یابی کے بعد آہستہ آہستہ پھر وہ ویسا ہی جسم تیار ہو جاتا ہے۔ سو اسی طرح ہمیشہ پہلے اجزاء جسم کے تحلیل پاتے جاتے ہیں اور دوسرے اجزاء ان کی جگہ لیتے ہیں۔ پس جسم پر گویا ہرآن ایک موت ہے اور