ہو جاتا ہے دوبارہ زندہ کئے جاتے ہیں اور اُن کی زندگی خدا کی زندگی کا ایک ظِل ہوتا ہے اور پلید روحوں میں بھی عذاب دینے کے لئے ایک حس پیدا کی جاتی ہے مگر وہ نہ مردوں میں داخل ہوتے ہیں نہ زندوں میں جیسا کہ ایک شخص جب سخت درد میں مبتلا ہوتا ہے تووہ بد حواسی کی زندگی اس کے لئے موت کے برابر ہوتی ہے اورزمین و آسمان اُس کی نظر میں تاریک دکھائی دیتے ہیں انہیں کے بارہ میں خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے3 3 ۱؂ یعنی جو شخص اپنے ربّ کے پاس مجرم ہوکر آئے گا اس کے لئے جہنم ہے وہ اس جہنم میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا اور خود انسان جب کہ اپنے نفس میں غور کرے کہ کیونکر اس کی رُوح پر بیداری اورخواب میں تغیرات آتے رہتے ہیں تو بالضرور اس کو ماننا پڑتا ہے کہ جسم کی طرح رُوح بھی تغیر پذیر ہے اور موت صرف تغیر اور سلب صفات کا نام ہے ورنہ جسم کے تغیر کے بعد بھی جسم کی مٹی تو بدستور رہتی ہے لیکن اس تغیر کی وجہ سے جسم پر موت کا لفظ اطلاق کیاجاتاہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ کہتاہے 3۲؂ یعنی کیا تم اپنی جانوں میں غور نہیں کرتے۔ اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسانی روح میں بڑے بڑے عجیب و غریب خواص اور تغیرات رکھے گئے ہیں کہ وہ اجسام میں نہیں اور روحوں پر غور کرکے جلد تر انسان اپنے ربّ کی شناخت کر سکتا ہے* جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ یعنی جس نے * جس قدر تغیرات اجسام پر آتے ہیں انسان زیادہ تر ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ جسمانی چیزیں جلد تر عادت میں داخل ہو جاتی ہیں لیکن روح کے تغیرات خاص کر مجاہدات کے وقت میں اور عالم کشف کی حالتیں ایسی عجیب ہیں کہ انسان کو گویا خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھادیتی ہیں اور معرفت کی منازل کو طے کرنے والے ہر یک اپنے مرتبہ ترقی کے وقت محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پہلی حالت روح کی گویا ایک موت تھی اور جو دوسری حالت میں روح کو علم اور ادراک کا حصہ نصیب ہوا وہ پہلی حالت میں ہر گز نہ تھابلکہ ظاہری علوم کی تحصیل کرنے والے بھی اس بات کے قائل ہو سکتے ہیں کہ روح بچپن کی حالت میں کس نیند میں غرق تھی اور جب اس کو بہت سے علوم سے حصہ ملا تو کیسی نئی روشنی اس کے اندر آگئی ۔ منہ