ہیں۔ غرض آیات ممدوحہ بالا سے رُوحوں کا مخلوق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور ایک اور آیت بھی روحوں کا مخلوق ہونا ثابت کرتی ہے اوروہ یہ ہے 3 ۱؂ الجزو نمبر ۱۸ سورۃ الفرقان۔ یعنی خدا وہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اورکوئی چیز اس کی پیدائش سے باہر نہیں اور اُس نے پیداؔ کرکے ہر ایک کے جسم اور طاقتوں اور قوتوں اور خواص اور صورت اور شکل کو ایک حد کے اندر محدود کردیا تا اس کا محدود ہونا محدد پر دلالت کرے جو ذاتِ باری عزّاسمہٗ ہے مگر آپ وہ غیر محدود ہے اس لئے اس کی نسبت سوال نہیں ہوسکتا کہ اس کا محدد کون ہے۔ غرض آیت ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے صاف فرمادیا کہ ہر ایک چیز جو ظہور پذیر ہوئی ہے مع اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں کے خدا کی پیدا کردہ ہے پس یہی کامل توحید ہے جو خدا تعالیٰ کو تمام فیوض کا سرچشمہ قرار دیتی ہے اور کوئی ایسی چیز قرار نہیں دیتی جو اس کی پیدا کردہ نہیں یا اسی کے سہارے سے جیتی نہیں۔ پھر دوسرا حصہ اس توحید کا یہ ہے کہ جیسا کہ کوئی چیز بجز خدا کے خود بخود موجود نہیں ایسا ہی ہر ایک چیز بجز خدا کے اپنی ذات میں فانی اور ہلاک ہونے سے بَری نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 3 ۲؂ یعنی ہر ایک چیز معرض ہلاکت میں ہے اور مرنے والی ہے بجز خدا کی ذات کے کہ وہ موت سے پاک ہے اور اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا3۳؂یعنی ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا پس جیسا کہ خدا نے اس آیت میں کہ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْ ءٍ ہے لفظ کُلَََّ کے ساتھ جو احاطہ تامہ کے لئے آتا ہے ہر ایک چیز کو جو اس کے سوا ہے مخلوق میں داخل کردیا۔ ایسا ہی اس لفظ کُل کے ساتھ اس آیت میں جو 3 ہے اور نیز اس آیت میں کہ 3ہے ہر ایک چیز کے لئے بجز اپنی ذات کے موت ضروری ٹھہرادی۔ پس جیسا کہ جسمی ترکیب میں اِنحلال ہو کر جسم پرموت آتی ہے ایسا ہی رُوحانی صفات میں تغیرات پیدا ہوکر رُوح پر موت آجاتی ہے مگرجو لوگ وجہ اللہ میں محو ہوکر مرتے ہیں وہ بباعث اس اِتّصَال کے جو اُن کو حضرت عزت سے