کھوئے گئے ہیں اور یہ ایک ایسی حالت ہے جو موت سے مشابہ بلکہ ایک قسم کی موت ہے اور یہ قطعی اور یقینی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ موت جو جسم کی موت کے ساتھ روح پر وارد ہوتی ہے وہ ایسی موت کے ساتھ مشابہ ہے جو نیند کی حالت میں روح پر وارد ہوتی ہے مگر وہ موت اس موت کی نسبت بہت بھاری ہے*۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ وید نے اس بارے میں بڑی غلطی کی ہے روحوں کو بھی خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ابدی قرار دیا ہے پس اس شخص سے زیادہ تر نادان کون ہے کہ جو ایسے ویدوں کو جو سراسر غلطیوں سے بھرے ہوئے اور مخلوق کو خدا کے برابر ٹھہرا کر شرک کی تعلیم دیتے ہیں۔ سرچشمہ علوم ٹھہراتا ہے مگر قرآن شریف رُوحوں کو ازلی ابدی نہیں ٹھہراتا ہے اُن کو مخلوق بھی مانتا ہے اور فانی بھی۔ جیسا کہ وہ روحوں کے مخلوق ہونے کے بارے میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ 3 ۱؂ یعنی جب قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس کی تیاری کے بعد اُسی قالب میں سے ہم ایک نئی پیدائش کر دیتے ہیں یعنی روح اور ایساہی قرآن شریف میں ایک اور جگہ فرمایا ہے 33 ۲؂ ۃ یعنی روح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے اور تم کو اس کا بہت تھوڑا علم ہے اور کئی محل میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جس مادہ سے رُوح پیدا ہوتی ہے اسی مادہ کے موافق رُوحانی اخلاق ہوتے ہیں جیسا کہ تمام درندوں چرندوں پر ندوں اورحشرات الارض پرغور کرکے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ نطفہ کامادہ ہوتا ہے اسی کے مناسب حال رُوحانی اخلاق اس جانور کے ہوتے * حالت خواب میں روحانی نظارے عجیب و غریب ہوتے ہیں مثلاً کبھی انسان ایک بچہ کی طرح اپنے تئیں دیکھتا ہے اور بیداری کا یہ واقعہ کہ وہ درحقیقت جوان ہے یا بوڑھا ہے اور اس کی اولاد ہے اور اس کی بیوی ہے بالکل فراموش کر دیتا ہے سو یہ تمام نظارے جو عالم خواب میں پیدا ہوتے ہیں صاف دلالت کرتے ہیں کہ روح خواب کی حالت میں اپنے حافظہ اور یادداشت اور اپنی بیداری کی صفات سے الگ ہو جاتی ہے اور یہی اس کی موت ہے ۔ منہ ۃحاشیہ۔ اس آیت کے معنی کئی طور کے مفسرین نے لکھے ہیں اور یہ معنی بھی ان میں شامل ہیں۔ منہ